حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): ایران کو ایٹمی تعاون میں ناکامی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھیجنے کی قرارداد کی منظوری کے بعد تہران اور مغربی ممالک کے درمیان جوہری تنازع مزید سنگین ہوگیا ہے، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے علیحدگی سمیت اہم پالیسی آپشنز پر غور کے اشاروں نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کردی ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی صدارتی کمیٹی کے ترجمان عباس گودرزی نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ایران کے لیے این پی ٹی سے دستبرداری اور اپنی ایٹمی حکمت عملی پر نظرثانی کے امکانات موجود ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات کے ذریعے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو سخت پیغام دیا جا سکتا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن محمدرضا محسنی ثانی نے بھی کہا کہ تہران اب این پی ٹی کو اپنے لیے ناقابلِ نظرانداز پابندی نہیں سمجھتا۔ ان کے مطابق ایران معاہدے میں رہنے یا اس سے الگ ہونے، دونوں امکانات کا جائزہ لے سکتا ہے۔
تاہم ایرانی دفتر خارجہ نے تاحال این پی ٹی سے باضابطہ علیحدگی کا کوئی فیصلہ یا اعلان نہیں کیا اور نہ ہی اس حوالے سے امریکا یا روس کو کوئی رسمی اطلاع دی گئی ہے۔ دوسری جانب ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے خبردار کیا کہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سیاسی طرز عمل سے مزید ممالک بھی این پی ٹی سے نکلنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔
ادھر اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے ایران کے خلاف منظور کی گئی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال امریکا اور اسرائیل کی مبینہ جارحیت کا نتیجہ ہے۔ ایرانی مشن کے مطابق ایران کو دباؤ کے ذریعے جھکانے کی امریکی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔
عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے 35 رکنی بورڈ آف گورنرز میں قرارداد کے حق میں 23 ممالک نے ووٹ دیا، جبکہ روس، چین اور نائیجر نے اس کی مخالفت کی۔ یہ قرارداد 25 سال کے دوران ایران کے خلاف اس نوعیت کی ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
یورپی یونین نے بھی ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ایٹمی مواد کی مقدار اور اس کے مقامات سے متعلق قابلِ تصدیق معلومات عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کو فراہم کرے اور تمام جوہری تنصیبات تک بین الاقوامی معائنہ کاروں کو رسائی دے۔
تاہم سلامتی کونسل میں روس اور چین کو حاصل ویٹو کے اختیار کے باعث ایران کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔ اس صورتحال میں ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان سفارتی کشیدگی کے مزید بڑھنے اور ایٹمی معاہدے کے مستقبل پر نئے سوالات اٹھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔