حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
حوثیوں کے سعودی پر حملے، مکّہ دفاعی معاہدہ فعال، پاکستان نے سعودی عرب کے دفاع کیلئے کردار واضح کردیا Home / بین الاقوامی,پاکستان /

حوثیوں کے سعودی پر حملے، مکّہ دفاعی معاہدہ فعال، پاکستان نے سعودی عرب کے دفاع کیلئے کردار واضح کردیا

ایڈیٹر - 10/09/2026
حوثیوں کے سعودی پر حملے، مکّہ دفاعی معاہدہ فعال، پاکستان نے سعودی عرب کے دفاع کیلئے کردار واضح کردیا

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): پاکستان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مکّہ مشترکہ دفاعی معاہدہ مؤثر اور نافذ العمل ہے، تاہم اس وقت کسی نئے ملک کو اتحاد میں شامل کرنے یا اس کے دائرہ کار کو وسعت دینے پر کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔

دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ مکّہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کا فریم ورک ہے اور پاکستان معاہدے میں کیے گئے وعدوں اور اس کی شقوں کے مطابق اپنا کردار ادا کرے گا۔

سعودی عرب پر حوثی حملوں کی صورت میں پاکستان کے ممکنہ ردعمل سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ معاہدہ فعال ہے، تاہم حوثیوں کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی کے حوالے سے فی الوقت تینوں فریقوں کے درمیان کوئی باضابطہ مشاورت جاری نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور دفاعی تعاون اپنی جگہ موجود ہیں، جبکہ تینوں ممالک پر مشتمل دفاعی معاہدے کے عملی طریقہ کار کو مزید تشکیل دیا جانا باقی ہے۔

دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ مکّہ دفاعی معاہدے میں کسی قسم کا ابہام موجود نہیں۔ ان کے مطابق معاہدے کی بنیادی شق کے تحت کسی ایک رکن ملک کے خلاف مسلح جارحیت کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر یمن میں سرگرم حوثیوں کے میزائل یا ڈرون حملے سعودی عرب کی حدود کو نشانہ بناتے ہیں تو دفاعی معاہدے کی شقیں حرکت میں آسکتی ہیں اور پاکستان اپنے عسکری و سیاسی وعدوں کے مطابق ذمہ داری ادا کرے گا۔

انہوں نے حوثیوں کو خبردار کیا تھا کہ یمن کے تنازع کو سعودی عرب کی سرحدوں تک پھیلانے سے گریز کیا جائے، بصورت دیگر مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ردعمل کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

وزیر دفاع کے مطابق مکّہ معاہدہ بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا اتحاد ہے جس کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحانہ کارروائی کرنا نہیں بلکہ رکن ممالک کے خلاف ممکنہ حملے کو روکنے کے لیے مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مؤثر بنانا ہے۔

خواجہ آصف نے اس امید کا بھی اظہار کیا تھا کہ سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کی جاسکے گی اور سعودی عرب کو یمن کے تنازع میں براہ راست فریق بننے کی صورتحال سے محفوظ رکھا جاسکے گا۔