ڈی پی او خیبر وقار احمد کے مطابق حاجی ظریف عرف لنڈے کو 7 اگست کو لنڈی کوتل بازار کے قریب سے اغوا کیا گیا تھا، جس کا مقدمہ تھانہ لنڈی کوتل میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرکے تفتیش شروع کی گئی۔
پولیس کے مطابق ایک ماہ کے دوران 13 مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر شاملِ تفتیش کیا گیا، جبکہ تفتیش اور سائنسی خطوط پر تحقیقات کے نتیجے میں مغوی کی موجودگی کا سراغ ملا۔
ڈی پی او کے مطابق مصدقہ اطلاع پر رات گئے سدوخیل کے پہاڑی علاقے میں کارروائی کی گئی، جہاں ایک غار سے مغوی تاجر کو بازیاب کرلیا گیا، تاہم پولیس کارروائی کے دوران اغوا کار غار میں موجود نہیں تھے
پولیس کا کہنا ہے کہ اغوا کاروں کے نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا گیا ہے اور ملزمان کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔
دوسری جانب مغوی کے رشتہ داروں اور مقامی شہریوں نے تاجر کی بازیابی کے لیے ایک ماہ تک پاک افغان شاہراہ کو احتجاجاً بند کیے رکھا۔