حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ایران تنازع میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں،یہ جنگ نہیں، لواحقین کو اضافی مراعات نہ دینے پر تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ Home / بین الاقوامی /

ایران تنازع میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں،یہ جنگ نہیں، لواحقین کو اضافی مراعات نہ دینے پر تنازعہ کھڑا ہوگیا۔

ایڈیٹر - 08/09/2026
ایران تنازع میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں،یہ جنگ نہیں، لواحقین کو اضافی مراعات نہ دینے پر  تنازعہ کھڑا ہوگیا۔

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کے اہلِ خانہ کو اضافی مالی مراعات کی فراہمی کا معاملہ متنازع بن گیا، جبکہ پینٹاگون کی جانب سے فوجی کارروائیوں کو باضابطہ جنگ تسلیم نہ کرنے پر متاثرہ خاندانوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے بعض ہلاک فوجیوں کے خاندانوں کو اضافی مراعات دینے سے انکار کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ایران کے ساتھ جاری فوجی جھڑپیں قانونی اور تکنیکی اعتبار سے جنگ کے زمرے میں نہیں آتیں۔

یہ معاملہ اس وقت نمایاں ہوا جب مارچ میں عراق کے مغربی علاقے میں حادثے کا شکار ہونے والے ایندھن بردار طیارے کے پائلٹ میجر الیکس کلینر کی اہلیہ لیبی کلینر نے اپنے شوہر کے بعد ملنے والی مراعات سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا۔

لیبی کلینر کے مطابق امریکی فضائیہ نے باضابطہ طور پر جنگ کا اعلان نہ ہونے کو بنیاد بناتے ہوئے انہیں اضافی فوائد فراہم کرنے سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر نے جنگ جیسے حالات میں جان گنوائی، لیکن بعد میں انہیں بتایا گیا کہ یہ تکنیکی طور پر جنگ نہیں، اس لیے خاندان بعض مراعات کا حقدار نہیں۔

رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے دوران گزشتہ 6 ماہ میں 18 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 780 زخمی ہوچکے ہیں۔

لیبی کلینر نے کہا کہ ایک غم زدہ خاندان کے لیے حکومتی اصطلاحات اور پیچیدہ ضوابط کو سمجھنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ ان کے بقول ان کے شوہر اپنے فرائض سے وابستہ خطرات سے آگاہ تھے اور انہیں یقین تھا کہ ان کی ہلاکت کی صورت میں حکومت ان کے خاندان کی دیکھ بھال کرے گی۔

دوسری جانب معاملہ سوشل میڈیا پر زیر بحث آنے کے بعد امریکی فضائیہ نے اعتراف کیا کہ ابتدائی طور پر فراہم کی گئی معلومات درست نہیں تھیں۔ حکام کے مطابق میجر الیکس کلینر کی آخری تنخواہ میں خطرناک ڈیوٹی سے متعلق اضافی الاؤنس شامل کردیا گیا ہے۔

معاملے نے سیاسی سطح پر بھی توجہ حاصل کی، جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے وائٹ ہاؤس کی بریفنگ کے دوران اس بارے میں سوال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندان کی ہر ممکن مدد کرنا چاہتی ہے اور ان کی قربانی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے تمام جائز حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

تاہم جے ڈی وینس نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کو ’جنگ‘ قرار دینے سے گریز کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کارروائیوں کو جنگ کے بجائے محدود نوعیت کا عسکری تنازع قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ اسے جنگ نہیں سمجھتے۔

پینٹاگون نے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ ہلاک فوجیوں کے لواحقین کی مسلسل معاونت اور دیکھ بھال جاری رکھی جائے گی۔