حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
جوانوں کے لیے بڑی خوشخبری، اسلام آباد پولیس اور سائبر کرائم ادارے میں 351 ملازمتیں، درخواست کی آخری تاریخ بڑھا دی گئی Home / پاکستان /

جوانوں کے لیے بڑی خوشخبری، اسلام آباد پولیس اور سائبر کرائم ادارے میں 351 ملازمتیں، درخواست کی آخری تاریخ بڑھا دی گئی

ایڈیٹر - 08/09/2026
جوانوں کے لیے بڑی خوشخبری، اسلام آباد پولیس اور سائبر کرائم ادارے میں 351 ملازمتیں، درخواست کی آخری تاریخ بڑھا دی گئی

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): وفاقی حکومت نے اسلام آباد پولیس اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں بھرتیوں کے خواہشمند نوجوانوں کے لیے اہم اعلان کرتے ہوئے درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کردی۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق ملک بھر سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین امیدوار اب 14 ستمبر 2026 تک مذکورہ آسامیوں کے لیے آن لائن درخواستیں جمع کراسکتے ہیں۔

محسن نقوی نے اپنے پیغام میں نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ قومی خدمت کے جذبے کے ساتھ دستیاب ملازمتوں سے فائدہ اٹھائیں اور بھرتی کے عمل میں حصہ لیں۔

351 خالی آسامیوں پر بھرتیاں

حکام کے مطابق اسلام آباد پولیس اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں مجموعی طور پر 351 آسامیوں پر بھرتیاں کی جارہی ہیں۔

مختلف عہدوں میں سب انسپکٹر، اسسٹنٹ سب انسپکٹر، ٹیکنیکل اسسٹنٹ، اسٹینو ٹائپسٹ، بالائی ڈویژن کلرک، کانسٹیبل اور کانسٹیبل ڈرائیور شامل ہیں۔

بھرتی کا مقصد پولیس فورس میں خالی نشستیں پُر کرنے کے ساتھ ساتھ سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے متعلقہ شعبے میں نوجوان اور باصلاحیت افراد کو مواقع فراہم کرنا ہے۔

ہر آسامی کے لیے 2,000 روپے فیس

بھرتی میں حصہ لینے والے امیدواروں کے لیے ہر آسامی کی درخواست پر 2,000 روپے ناقابل واپسی درخواست اور امتحانی فیس مقرر کی گئی ہے، جو مختلف آن لائن بینکاری ذرائع کے ذریعے جمع کرائی جاسکتی ہے۔

ایک سے زائد عہدوں کے لیے درخواست دینے والے امیدواروں کو ہر آسامی کے لیے الگ درخواست جمع کرانے کے ساتھ مقررہ فیس بھی علیحدہ ادا کرنا ہوگی۔

درخواستیں صرف آن لائن وصول کی جائیں گی، جبکہ دستی یا ڈاک کے ذریعے بھیجی گئی درخواستیں قابل قبول نہیں ہوں گی۔ ابتدائی مرحلے میں تعلیمی اسناد کی نقول بھی جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

مردوں کے لیے 7، خواتین کے لیے 10 منٹ میں ایک میل

انتخابی عمل کے ابتدائی مرحلے میں سب انسپکٹر، اسسٹنٹ سب انسپکٹر، کانسٹیبل اور کانسٹیبل ڈرائیور کے امیدواروں کا جسمانی اور دوڑ کا امتحان ہوگا۔

جسمانی ٹیسٹ کے دوران مرد امیدواروں کو 1 میل 7 منٹ جبکہ خواتین امیدواروں کو یہی فاصلہ 10 منٹ میں مکمل کرنا ہوگا۔

جسمانی مرحلہ کامیابی سے عبور کرنے والے امیدوار ہی کمپیوٹر پر مبنی تحریری امتحان میں شرکت کے اہل ہوں گے۔

جعلی معلومات دینے والوں کے خلاف کارروائی

انتظامیہ نے امیدواروں کو خبردار کیا ہے کہ درخواست میں غلط معلومات یا جعلی اسناد فراہم کرنے سے گریز کیا جائے۔ حکام کے مطابق غلط یا جعلی معلومات کی فراہمی پاکستان پینل کوڈ کے تحت جرم ہے، جس پر 7 سال تک قید ہوسکتی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بھرتی کے پورے عمل میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی اور کسی بھی مرحلے پر دستاویزات جعلی ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ امیدوار کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

سرکاری ملازمت کرنے والے امیدواروں کو انٹرویو کے وقت اپنے متعلقہ محکمے سے اجازت نامہ پیش کرنا ہوگا، جبکہ حتمی طور پر منتخب امیدواروں کو پاکستان کے کسی بھی علاقے میں تعینات کیا جاسکتا ہے۔