اسلام آباد: اڈیالہ جیل کے قیدیوں کی عمران خان جیسی طبی سہولیات کے لیے وفاقی آئینی عدالت میں اہم درخواست دائر
اسلام آباد (رپورٹ: حسبان میڈیا) – اڈیالہ جیل میں قید تین اسیران نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو حاصل طبی اور دیگر خصوصی سہولیات کی تمام قیدیوں کو فراہمی کے لیے وفاقی آئینی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے۔ درخواست گزاروں نے اس سلسلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے اسے کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔
درخواست گزار قیدیوں نے اپنے وکیل کے توسط سے موقف اختیار کیا ہے کہ دستورِ پاکستان کا آرٹیکل 25 تمام شہریوں کے مساوی حقوق اور ان کے ساتھ یکساں سلوک کی ضمانت دیتا ہے۔ درخواست میں صراحت کی گئی ہے کہ قانون کی نظر میں تمام قیدی برابر ہیں، لہٰذا جو خصوصی طبی اور مواصلاتی سہولیات بانی پی ٹی آئی کو میسر ہیں، وہ جیل میں بند دیگر عام قیدیوں کا بھی آئینی حق ہے۔
آئینی درخواست میں سپریم کورٹ کے 18 اگست کے اس حکم نامے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس کے تحت بانی پی ٹی آئی کو علاج معالجے کے لیے اسلام آباد کے نجی شعبے کے معروف 'شفا انٹرنیشنل اسپتال' منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ درخواست گزاروں نے عدالتِ عالیہ سے استدعا کی ہے کہ انہیں بھی اسی نجی اسپتال سے علاج کی اجازت دی جائے اور بانی پی ٹی آئی کی طرز پر واٹس ایپ کے ذریعے بیرونِ ملک مقیم اپنے اہلخانہ سے رابطہ کرنے کی خصوصی سہولت فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق، اس درخواست کے دور رس نتائج مرتب ہو سکتے ہیں جو جیل مینوئل اور قیدیوں کے حقوق کے حوالے سے ایک نئی بحث کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔