حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب اور بہاولپور کو الگ صوبے بنانے سے متعلق پنجاب اسمبلی کی تقریباً 10 سال پرانی قراردادیں اب مؤثر نہیں رہیں۔
ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب اور بہاولپور کو صوبائی حیثیت دینے کے حوالے سے پنجاب اسمبلی میں قراردادیں کئی سال قبل منظور کی گئی تھیں، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ان کی عملی حیثیت ختم ہوچکی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اگر کسی اسمبلی کی آئینی مدت مکمل ہوجائے اور اس دوران کسی قرارداد پر پیش رفت نہ ہو تو بعد میں بننے والی اسمبلی کو اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ اسی معاملے پر نئی قرارداد منظور کرے یا اسے آگے نہ بڑھائے۔
وفاقی دارالحکومت کو الگ صوبہ بنانے سے متعلق سوال پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت کو الیکشن کمیشن کی جانب سے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے حوالے سے آخری وارننگ موصول ہوچکی ہے، جبکہ انتخابات منظور شدہ بلدیاتی قانون کے تحت ہی کرائے جائیں گے۔
ملک میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق جاری بحث پر وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ صوبوں کی تشکیل ایک اہم آئینی اور قومی معاملہ ہے، اس پر بحث اور فیصلہ سازی کے لیے پارلیمنٹ ہی موزوں فورم ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیانات سے متعلق سوال پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعظم نے انہیں اپنی رائے کے اظہار سے نہیں روکا اور وہ ذاتی حیثیت میں اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے آزاد ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ عوامی ریفرنڈم سمیت کسی بھی ایسے معاملے کی منظوری آئین اور پارلیمنٹ کے طے کردہ طریقہ کار کے مطابق ہی ممکن ہے، محض کسی وزیر کے بیان سے اس کی آئینی حیثیت قائم نہیں ہوسکتی۔