امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنے سخت ترین موقف کا اعادہ کرتے ہوئے واشنگٹن کی جانب سے تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے مستقل روکنے کے عزم کو دہرایا ہے۔ امریکی میڈیا نیٹ ورک ’فاکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک حالیہ اور تہلکہ خیز انٹرویو میں امریکی صدر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ان کی انتظامیہ ایران کو جوہری قوت بننے کی اجازت کبھی نہیں دے سکتی، کیونکہ تہران کے پاس ایسے مہلک ہتھیار ہونا عالمی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ہو گا۔
انٹرویو کے دوران ایرانی قیادت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں ’انتہائی پرشدد اور برے لوگ‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو وہ اس کا استعمال کرنے سے بالکل نہیں ہچکچائے گا۔ صدر ٹرمپ نے ماضی کے علاقائی بحرانوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک حیران کن تبصرہ کیا کہ جنگ کے آغاز میں جب تہران نے خلیجی عرب ممالک کو براہِ راست نشانہ بنانا شروع کیا، تو اس وقت دنیا بھر کی طرح وہ خود بھی حیران رہ گئے تھے۔
امریکی صدر نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کو انہوں نے ایک ’بہت اچھی بات‘ سمجھا، کیونکہ اس جارحیت کے نتیجے میں ایران کو بین الاقوامی برادری سے حاصل وہ تمام تر اخلاقی اور سیاسی حمایت یکسر ختم ہو گئی جو اسے پہلے حاصل تھی۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ تازہ بیان مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے ان کی آئندہ کی سخت گیر پالیسیوں کی واضح عکاسی کرتا ہے، جس سے خطے میں تزویراتی تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔