کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں جاری شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف سے الگ الگ انتہائی اہم ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ وزیر اعظم آفس سے جاری کردہ باقاعدہ اعلامیے کے مطابق، پاک-ایران سربراہان کی ملاقات انتہائی پرجوش اور دوستانہ ماحول میں ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور ایرانی صدر کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران طے پانے والے فیصلوں پر تیزی سے عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
ملاقات کے دوران علاقائی سلامتی اور حال ہی میں قائم ہونے والے ’مکہ دفاعی معاہدے‘ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے میڈیا کو بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے انہیں مکمل یقین دہانی کرائی ہے کہ مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور یہ کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگا۔ ایرانی صدر نے پاکستان کے اس موقف کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ مسلم ممالک اگر متحد ہو جائیں تو اسرائیل ان پر اتنی آسانی سے حملہ آور نہیں ہو سکے گا۔ انہوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مسلم امہ کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان کے فعال اور تعمیری کردار کو زبردست الفاظ میں سراہا اور امید ظاہر کی کہ مکہ معاہدہ مسلم دنیا میں اتحاد کی نئی راہ کھولے گا جس میں دیگر علاقائی ممالک بھی شامل ہو سکیں گے۔
دوسری جانب، وزیر اعظم شہباز شریف نے ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف سے بھی ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کی جس کا محور پاک-ازبک اقتصادی روابط تھے۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے باہمی تجارت کے حجم کو فوری طور پر 2 ارب امریکی ڈالرز تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا اور ٹرانزٹ ٹریڈ سمیت خطے میں رابطوں کی بحالی کے منصوبوں پر مشترکہ کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا۔ ماہرین کے مطابق، بشکیک میں پاکستان کی یہ سفارتی کامیابیاں خطے میں معاشی اور سیکیورٹی توازن برقرار رکھنے میں کلیدی اہمیت کی حامل ہیں۔