حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے اسلام آباد کے پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی اموات کے افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے حکمرانوں سے سرکاری صحت اور تعلیمی نظام سے متعلق اہم سوال اٹھا دیا۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں شاہد آفریدی نے کہا کہ پمز اسپتال میں 14 معصوم بچے جان کی بازی ہار گئے، واقعے کی انکوائری رپورٹ بھی سامنے آچکی ہے اور متعلقہ افسران کو معطل کرنے کے ساتھ ان کے خلاف فوجداری کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔
سابق کپتان کا کہنا تھا کہ انتظامی کارروائی اور تحقیقات اپنی جگہ، لیکن کوئی بھی اقدام ان معصوم بچوں کی زندگیاں واپس نہیں لا سکتا۔
شاہد آفریدی نے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ اگر سرکاری اسپتال اور سرکاری تعلیمی اداروں کا نظام واقعی اتنا ہی بہتر ہے تو اقتدار میں موجود افراد اپنے بچوں کو ان اداروں میں کیوں نہیں بھیجتے؟
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ہر شہری کو صحت اور تعلیم کی یکساں اور معیاری سہولیات حاصل ہونی چاہئیں، جبکہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو بلاامتیاز بہتر صحت اور تعلیم کی سہولت فراہم کرے۔
پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی اموات کے واقعے نے پہلے ہی عوامی سطح پر تشویش پیدا کر رکھی ہے، جبکہ انکوائری رپورٹ کے بعد متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کا عمل بھی شروع کیا جاچکا ہے۔