ویب ڈیسک): ٹیکنالوجی کی دنیا کے ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے حوالے سے ایک بڑی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2027 کے اختتام تک اے آئی ڈیجیٹل دنیا میں تقریباً ہر کام انسانوں سے بہتر انداز میں انجام دینے کے قابل ہوسکتی ہے۔
ایلون مسک نے یہ دعویٰ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک گفتگو کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2027 کے اختتام تک مصنوعی ذہانت ڈیجیٹل دنیا میں تقریباً ہر کام ’’سپرہیومن‘‘ سطح پر کرنے کی صلاحیت حاصل کرسکتی ہے۔
مسک کا یہ تبصرہ ویراسل کے چیف ایگزیکٹو گیلرمو راخ کی ایک پوسٹ کے جواب میں سامنے آیا، جس میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے خودمختار کردار اور اس سے وابستہ ممکنہ سائبر سکیورٹی خطرات پر توجہ دلائی گئی تھی۔
گزشتہ چند برسوں میں مصنوعی ذہانت کے ماڈلز نے غیر معمولی پیش رفت کی ہے۔ جدید اے آئی نظام سوالات کے جوابات دینے کے علاوہ کمپیوٹر پروگرام لکھنے، فائلوں کا تجزیہ کرنے، پریزنٹیشنز تیار کرنے اور متعدد ڈیجیٹل کام خود انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایلون مسک کے مطابق اگر یہ ترقی اسی رفتار سے جاری رہی تو اے آئی آنے والے برسوں میں کئی ایسے شعبوں میں انسانی صلاحیتوں سے آگے نکل سکتی ہے جنہیں فی الحال پیچیدہ اور ماہر انسانی کام سمجھا جاتا ہے۔
تاہم مسک نے اپنی پیشگوئی کی ایک اہم حد بھی واضح کی۔ ان کے مطابق ’’سپرہیومن‘‘ صلاحیت سے مراد بنیادی طور پر ڈیجیٹل دنیا میں برتری ہے، یعنی یہ ضروری نہیں کہ اے آئی حقیقی دنیا کے ہر جسمانی کام میں بھی فوری طور پر انسانوں سے بہتر ہوجائے۔
مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی خودمختاری کے ساتھ سائبر سکیورٹی سے متعلق خدشات بھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔ گیلرمو راخ نے ایک معروف سافٹ ویئر سروس میں سامنے آنے والی سکیورٹی خامی کو اے آئی ایجنٹس کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں سے جوڑا تھا۔
ان کے مطابق مستقبل میں ایسے اے آئی ایجنٹس سامنے آسکتے ہیں جو خودکار طور پر کمزور کمپیوٹر سسٹمز کی نشاندہی کرکے انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کریں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ مذکورہ سافٹ ویئر میں سامنے آنے والی خامی خود کسی اے آئی ایجنٹ نے دریافت کی یا استعمال کی تھی۔
اسی بحث کے دوران ایلون مسک نے گوگل کے شریک بانی لیری پیج کے ساتھ تقریباً ایک دہائی پرانی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ لیری پیج اس وقت بھی یہ خدشہ ظاہر کرتے تھے کہ مصنوعی ذہانت سائبر حملوں اور ہیکنگ کے معاملے میں انسانوں سے آگے نکل سکتی ہے۔
اے آئی ایجنٹس کے خودمختار رویے سے متعلق خدشات صرف ایک ادارے تک محدود نہیں۔ مختلف ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اپنے مصنوعی ذہانت کے نظام کی جانچ کے دوران ایسے واقعات رپورٹ کیے ہیں جن میں اے آئی ماڈلز نے متوقع حدود سے ہٹ کر کام کرنے کی کوشش کی۔
اوپن اے آئی کی ایک حالیہ سکیورٹی رپورٹ کے مطابق داخلی جانچ کے دوران تقریباً 1200 اے آئی ایجنٹس نے آرٹیفیکٹری نامی اندرونی سروس کو ایک دوسرے کے ساتھ رابطے اور معلومات کے تبادلے کے لیے استعمال کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان ایجنٹس کے درمیان 70 ہزار سے زائد پیغامات اور فائلوں کا تبادلہ ہوا، جبکہ تقریباً 700 ایجنٹس نے بعد ازاں ہگنگ فیس کے نظام کو ہدف بنایا۔
دوسری جانب اینتھروپک اور میٹا نے بھی اپنے اے آئی نظاموں کی جانچ کے دوران ایسے رویوں کی نشاندہی کی ہے جنہیں توقعات سے ہٹ کر یا ’’روگ‘‘ رویہ قرار دیا گیا۔
ماہرین کے درمیان مصنوعی ذہانت کی آئندہ صلاحیتوں کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ اگرچہ اے آئی کی ترقی کی رفتار غیر معمولی ہے، تاہم یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ 2027 کے اختتام تک یہ ڈیجیٹل دنیا کے ہر کام میں انسانوں کو پیچھے چھوڑ دے گی۔
ایلون مسک کی یہ بات ایک پیشگوئی ہے، حتمی سائنسی نتیجہ نہیں۔ اے آئی کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ اس کی قابلِ اعتماد حیثیت، خودمختاری، سکیورٹی اور انسانی نگرانی میں رہنے کی صلاحیت مستقبل کے اہم سوالات میں شامل ہیں۔