حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): ضلع بنوں میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور دہشت گردی کے سدباب کے لیے پولیس اور امن کمیٹی کے درمیان 11 نکاتی معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت دونوں فریق قیامِ امن کے لیے مشترکہ طور پر کردار ادا کریں گے۔
معاہدے کے مطابق امن کمیٹی کے ارکان دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے ساتھ مکمل تعاون کے پابند ہوں گے۔ کمیٹی ارکان مشکوک سرگرمیوں اور دہشت گرد عناصر سے متعلق کسی بھی اطلاع سے فوری طور پر پولیس کو آگاہ کریں گے۔
دستاویز میں امن کمیٹی کے ارکان کو قانون ہاتھ میں لینے، غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور پولیس یا دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف مزاحمت سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
معاہدے کے تحت پولیس کی جانب سے امن کمیٹی کے ارکان اور ان کے اہلخانہ کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے، جبکہ کمیٹی عوام میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کے ساتھ تعاون کرے گی۔
پولیس اور امن کمیٹی کے درمیان کسی معاملے پر اختلاف پیدا ہونے کی صورت میں تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ معاہدے میں امن کمیٹی کے ارکان کے جائز مسائل کے حل کے لیے بھی متعلقہ حکام کی جانب سے اقدامات کرنے کی یقین دہانی شامل ہے۔
معاہدے کی دستاویز پر پاکستان تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی شیر افضل مروت اور نسیم علی شاہ، رکن خیبرپختونخوا اسمبلی پختون یار اور امن کمیٹی کے صدر حضرت اللہ کے دستخط موجود ہیں۔
معاہدے کے اختتام پر پولیس اور امن کمیٹی نے بنوں میں پائیدار امن کے قیام، دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کے تحفظ کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔