حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
نیپال پر ایک اور سیلاب کا خطرہ! چین کی خطرناک جھیل سے متعلق ہنگامی انتباہ جاری Home / ماحولیات /

نیپال پر ایک اور سیلاب کا خطرہ! چین کی خطرناک جھیل سے متعلق ہنگامی انتباہ جاری

ایڈیٹر - 29/08/2026
نیپال پر ایک اور سیلاب کا خطرہ! چین کی خطرناک جھیل سے متعلق ہنگامی انتباہ جاری

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد ایک نئی قدرتی جھیل نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ چین نے خبردار کیا ہے کہ دریائے لھینڈے کے بالائی علاقے میں بننے والی عارضی جھیل کسی بھی وقت پھٹ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں زیریں علاقوں کے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ اچانک بڑھنے کا خدشہ ہے۔

چینی حکام نے صورتحال سے متعلق معلومات نیپال کی وزارت خارجہ تک پہنچاتے ہوئے بتایا ہے کہ جھیل کے پانی کا رنگ مسلسل گہرا ہورہا ہے، جو ممکنہ طور پر جھیل میں دباؤ بڑھنے اور اس کے پھٹنے کے خطرے کی علامت ہوسکتا ہے۔

تاہم چینی حکام کے مطابق جھیل میں پانی کی مقدار فی الحال اتنی زیادہ نہیں کہ اس کے پھٹنے سے بڑے پیمانے پر تباہ کن سیلاب آنے کا امکان ہو۔ اس کے باوجود زیریں علاقوں میں رہنے والے افراد کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

چند دن میں لاکھوں مکعب میٹر پانی جمع

چین کی وزارت آبی وسائل کے مطابق عارضی جھیل میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہورہی ہے اور جمعے تک یہاں تقریباً 25 لاکھ مکعب میٹر پانی جمع ہوچکا تھا۔

چینی ماہرین نے ممکنہ صورتحال کا اندازہ لگانے کے لیے سیلاب کا ماڈل بھی تیار کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر جھیل کا قدرتی بند جزوی طور پر ٹوٹ جاتا ہے تو پانی کا زیادہ سے زیادہ بہاؤ 500 مکعب میٹر فی سیکنڈ تک پہنچ سکتا ہے، تاہم اس صورت میں بھی پانی کے دریا کے کناروں سے باہر نکلنے کا امکان کم ہے۔

چین نے یہ بھی اندازہ لگایا ہے کہ آئندہ 3 روز کے دوران جھیل میں مزید تقریباً 30 لاکھ مکعب میٹر پانی جمع ہوسکتا ہے۔

برفانی تودے نے کیسے جھیل بنادی؟

یہ عارضی جھیل رواں ہفتے نیپال اور چین کے تبت کے علاقوں میں ایک بڑے برفانی تودے کے گرنے اور اس کے بعد آنے والے شدید سیلاب کے نتیجے میں وجود میں آئی۔

برفانی تودے اور ملبے نے پانی کے راستے میں قدرتی بند بنادیا، جس کے باعث پانی جمع ہونا شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک نئی جھیل تشکیل پاگئی۔ یہ جھیل چین کی جانب چوچن دریا اور نیپال کی طرف پوریپو دریا کے سنگم کے قریب واقع ہے۔

ڈرون اور سیٹلائٹ سے مسلسل نگرانی

ممکنہ خطرے کا اندازہ لگانے اور صورتحال پر قابو رکھنے کے لیے چینی حکام ڈرونز اور مصنوعی سیاروں کی مدد سے علاقے کی مسلسل نگرانی کررہے ہیں۔

جمعے کو جھیل کا پانی لھینڈے کھولا اور تریشولی دریاؤں میں داخل ہونا شروع ہوگیا۔ چینی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق جمعے کی دوپہر تک پیدا ہونے والے خطرے کو قابلِ انتظام قرار دیا گیا تھا۔

پہلے ہی بڑے پیمانے پر تباہی

نئی جھیل کا خطرہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیپال بدھ کو آنے والے تباہ کن سیلاب کے نقصانات سے ابھی سنبھل بھی نہیں پایا۔ سیلاب کے نتیجے میں نیپال میں اب تک کم از کم 587 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ چین کے تبت کے علاقے میں بھی کم از کم 7 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

نئی جھیل کے ممکنہ طور پر پھٹنے کی صورت میں دریاؤں میں پانی کا بہاؤ بڑھنے کے خدشے کے باعث نیپالی حکام نے صورتحال پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے، جبکہ زیریں علاقوں کی آبادی کو بھی محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔