حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری قائم کرنے اور سمندری راستے کو محفوظ بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات پر غور شروع کردیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمانی وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی کے درمیان تہران میں ہونے والی ملاقات میں آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کی بحالی اور اسے محفوظ بنانے سے متعلق مختلف تجاویز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز میں عارضی مشترکہ بحری راہداری قائم کرنے کے لیے ایک مجوزہ فریم ورک کا جائزہ لیا گیا، جبکہ سمندری راستے میں موجود ممکنہ بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے دونوں ممالک کے اشتراک سے منصوبہ شروع کرنے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔
دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی انتظام میں ایران اور عمان کی خودمختاری اور قومی مفادات کا مکمل احترام ضروری ہوگا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ پاکستانی اور عمانی نمائندوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں علاقائی سطح پر مسئلے کے حل اور باہمی تعاون کو ترجیح دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ مستقبل میں آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق امور بھی مذاکرات کا حصہ رہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق امن و استحکام کے لیے ایران کا عزم اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل اور فعال سفارت کاری کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عارضی بحری راہداری کے قیام، مشترکہ طور پر بارودی سرنگوں کی صفائی اور آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام سے متعلق تجاویز اسی علاقائی تعاون اور سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
ایران اور عمان کے درمیان ہونے والی یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز کی بحری آمدورفت خطے کی سلامتی اور عالمی تجارت کے حوالے سے خصوصی اہمیت اختیار کرچکی ہے۔