حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
امریکی معاشی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایرانی صدر کا دوٹوک اعلان Home / بین الاقوامی /

امریکی معاشی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایرانی صدر کا دوٹوک اعلان

ایڈیٹر - 26/08/2026
امریکی معاشی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایرانی صدر کا دوٹوک اعلان

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کی جانب سے بڑھائے جانے والے معاشی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران مشکلات کے باوجود اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرے گا اور اقتصادی پابندیوں کا مقابلہ جاری رکھے گا۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق مسعود پزشکیان نے کہا کہ موجودہ معاشی مشکلات کے باعث ایران کے سامنے سر تسلیم خم کرنے یا دباؤ قبول کرنے کا کوئی سوال نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ قومی یکجہتی اور باہمی تعاون کے ذریعے کیا جائے گا۔

ایرانی صدر نے الزام عائد کیا کہ امریکا کی اقتصادی حکمت عملی کا مقصد صرف ایران کی معیشت کو متاثر کرنا نہیں بلکہ ایرانی معاشرے میں اختلافات اور تقسیم کو بھی ہوا دینا ہے۔ ان کے مطابق معاشی مشکلات کو بنیاد بنا کر عوام میں بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

مسعود پزشکیان نے ایرانی عوام پر زور دیا کہ مشکل حالات میں ایک دوسرے کا سہارا بنیں اور باہمی ہمدردی و تعاون کو فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے قومی اتحاد کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔

ایرانی صدر نے ملک کے دانشوروں، جامعات کے اساتذہ، محققین اور ماہرین سے بھی اپیل کی کہ وہ معاشرتی مسائل کے حل اور عوام میں پائی جانے والی بے چینی کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ معاشی مشکلات کے دور میں حکومت اور عوام کے درمیان تعاون پہلے سے زیادہ اہم ہوگیا ہے اور ملک کے مختلف طبقات کو مل کر موجودہ بحران کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

مسعود پزشکیان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن نے ایران کے خلاف معاشی پابندیوں اور دباؤ میں مزید اضافہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ امریکی اقدامات میں ایرانی معیشت سے وابستہ افراد، اداروں اور مختلف شعبوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ایران کے ساتھ کاروباری روابط رکھنے والے ممالک اور اداروں پر بھی ممکنہ کارروائی کی دھمکی شامل ہے۔

امریکی پابندیوں کا دائرہ ایران کی تیل کی تجارت، مالیاتی نظام، بحری نقل و حمل، ٹیکنالوجی اور دیگر اہم اقتصادی شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ایران کی مالی اور فوجی صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے۔

دوسری جانب تہران امریکی اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتا ہے کہ معاشی پابندیاں ایرانی عوام کو مشکلات سے دوچار کرنے اور ملک میں داخلی انتشار پیدا کرنے کی کوشش ہیں۔

ایرانی صدر کے تازہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ تہران فی الحال امریکی دباؤ کے جواب میں پسپائی اختیار کرنے کے بجائے قومی اتحاد اور معاشی مزاحمت کو اپنی حکمت عملی کا مرکز بنائے ہوئے ہے، تاہم پابندیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات ایران کی معیشت اور عوام پر کس حد تک پڑتے ہیں، اس کا اندازہ آنے والے دنوں میں ہوگا۔