سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی اڈیالہ جیل سے اسپتال منتقلی کے احکامات پر عمل نہ کرنے کے خلاف دائر توہینِ عدالت کی درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے جاری کردہ آفیشل روسٹر کے مطابق، اس اہم ترین درخواست پر سماعت رواں سال 16 ستمبر کو ہو گی۔ [2]
رجسٹرار آفس کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، متعلقہ قانونی کیٹیگری میں اسی نوعیت کی تقریباً 94 درخواستیں طویل عرصے سے زیرِ التوا ہیں، جن میں عمران خان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان کی جانب سے دائر کردہ یہ توہینِ عدالت کی درخواست دائرہ کار کے لحاظ سے سب سے آخر میں شامل ہوئی ہے۔ رجسٹرار آفس نے عدالتی طریقہ کار کو برقرار رکھتے ہوئے تمام قانونی تقاضوں کے بعد اسے مقررہ تاریخ پر پیش کرنے کی منظوری دی ہے۔
عدالتِ عظمیٰ کے باضابطہ کاز لسٹ اور روسٹر کے مطابق، 16 ستمبر کو ہونے والی اس سماعت کے لیے بینچ نمبر پانچ تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ تین رکنی اعلیٰ سطحی جوڈیشل بینچ جسٹس شاہد وحید، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل ہو گا جو توہینِ عدالت کی اس درخواست کے قانونی اور آئینی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے گا اور جیل انتظامیہ سمیت متعلقہ حکام سے جواب طلب کرے گا۔