حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): چاند پر مستقبل میں بڑھنے والی خلائی سرگرمیوں اور ممکنہ انسانی آبادیوں کے قیام کے پیش نظر سائنس دانوں نے وہاں خلائی ٹریفک کو منظم کرنے کے لیے نئے ضوابط تجویز کردیئے ہیں، جنہیں چاند کے ممکنہ پہلے خلائی ٹریفک کنٹرول نظام کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ 2 دہائیوں کے دوران چاند پر مستقل انسانی تنصیبات قائم ہونے اور مختلف خلائی مشنز میں تیزی آنے کا امکان ہے۔ ایسے میں خلائی جہازوں، سامان لے جانے والے کارگو مشنز اور دیگر سرگرمیوں میں اضافے کے باعث چاند کے گرد بھی منظم ٹریفک نظام کی ضرورت پیدا ہوسکتی ہے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا سمیت مختلف خلائی ایجنسیاں چاند پر طویل مدتی موجودگی کے منصوبوں پر کام کررہی ہیں۔ اسی سلسلے میں ناسا کا گیٹ وے منصوبہ بھی اہم تصور کیا جارہا ہے، جو مستقبل میں چاند کے گرد خلائی جہازوں کی آمدورفت اور مختلف مشنز کے لیے ایک اہم خلائی مرکز کے طور پر استعمال ہوسکتا ہے۔
مجوزہ نظام میں ریاضیاتی اصولوں کی مدد سے خلائی جہازوں کے لیے محفوظ اور متعین راستے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ مختلف مشنز کے درمیان تصادم کے خطرے کو کم کیا جاسکے اور چاند کے اطراف بڑھتی ہوئی خلائی سرگرمیوں کو بہتر انداز میں منظم کیا جاسکے۔
ماہرین کے مطابق زمین، چاند اور گہری خلا کے درمیان مستقبل میں بڑھنے والی آمدورفت کے لیے ابھی سے قواعد و ضوابط وضع کرنا ضروری ہے۔ اس اقدام کا مقصد خلائی مشنز کو زیادہ محفوظ بنانا اور چاند پر بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے لیے ایک منظم نظام کی بنیاد رکھنا ہے۔
یوں مستقبل میں چاند پر صرف انسانی بستیاں اور خلائی اڈے ہی نہیں بلکہ خلائی جہازوں کی آمدورفت کے لیے باقاعدہ ٹریفک نظام بھی قائم ہونے کا امکان ہے۔