وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری معالجاتی مرکز، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز اسپتال) کی نرسری میں ائیرکنڈیشنر کا کمپریسر پھٹنے سے ہولناک آگ بھڑک اٹھی۔ اس اندوہناک حادثے کے نتیجے میں نرسری میں زیرِ علاج 16 نومولود بچوں میں سے 15 معصوم بچے جھلس کر جاں بحق ہو گئے، جبکہ ڈیوٹی پر موجود لیڈی ڈاکٹر نے اپنی جان پر کھیل کر صرف ایک بچے کو بحفاظت نکالنے میں کامیابی حاصل کی۔
ریسکیو ذرائع اور ضلعی انتظامیہ کے مطابق، یہ المیہ بدھ کی صبح زچہ و بچہ (ایم سی ایچ) وارڈ کی تیسری منزل پر واقع نوزائیدہ بچوں کی نرسری میں پیش آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، نرسری میں نصب اے سی کا کمپریسر اچانک دھماکے سے پھٹ گیا، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری وارڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیاں اور 4 ایمبولینسز فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا۔ ریسکیو ٹیموں نے سخت جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پا لیا، جس کے بعد کولنگ کا عمل مکمل کیا گیا۔ حادثے میں جھلسنے والے 14 بچوں کی لاشیں ناقابلِ شناخت ہو چکی تھیں۔
دوسری جانب، وزیر اعظم شہباز شریف نے پمز نرسری آتشزدگی کے واقعے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام کو فوری اور شفاف تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کا نقصان ناقابلِ تلافی ہے، واقعے کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لے کر ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور ان کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بھی کراچی سے اسلام آباد روانگی سے قبل اپنے بیان میں 14 بچوں کی اموات کی تصدیق کی اور بتایا کہ ڈی جی ہیلتھ اور سیکرٹری اسپتال میں موجود ہیں اور متاثرہ والدین کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے واقعے کی باقاعدہ انکوائری کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو آتشزدگی کی وجوہات اور اسپتال کے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لے کر جلد رپورٹ پیش کرے گی۔