حکومتِ پاکستان اور تمام صوبائی حکومتوں بشمول پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر نے ملک کی مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی کو مستحکم کرنے اور انسانی وسائل کی بہتری کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک ”قومی آبادی ڈیکلریشن“ پر اتفاق کر لیا ہے۔ وزیرِ اعظم پاکستان کی سربراہی میں قائم قومی آبادی کونسل، وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اور سپریم کورٹ کی ٹاسک فورس کی سفارشات کی روشنی میں اس تاریخی پالیسی کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اس ڈیکلریشن کے تحت ملک بھر میں آبادی پر قابو پانے کے لیے اعلیٰ سطحی ”صوبائی آبادی کونسلیں“ قائم کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس تاریخی فریم ورک کے تحت حکومت نے سال 2030ء تک ملک میں شرحِ پیدائش کو گھٹا کر 2.1 تک لانے اور آبادی کی سالانہ شرحِ نمو کو 1.2 فیصد پر لانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ان اہداف کے حصول کے لیے تمام وفاقی اور صوبائی اکائیاں اگلے 10 سالوں کے لیے ایک جامع ”قومی آبادی استحکام پروگرام“ تشکیل دیں گی، جس کے تحت صوبائی اور علاقائی سطح پر ایکشن پلانز تیار کیے جائیں گے۔ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صحت، تعلیم اور آبادی کے شعبے صوبوں کے پاس ہیں، اس لیے یہ ڈیکلریشن صوبائی انتظامیہ اور وفاق کے مابین دائرہ اختیار کا احترام کرتے ہوئے قومی مقصد کے لیے مشترکہ کام کو یقینی بنائے گا۔
دستاویزات کے مطابق، مرکزی قومی آبادی کونسل کی طرز پر تمام صوبوں اور علاقوں میں اعلیٰ سطحی صوبائی آبادی کونسلیں قائم کی جائیں گی جن کے چیئرمین متعلقہ صوبے کے چیف سیکریٹری یا ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ڈویلپمنٹ) ہوں گے، جو اس مشن کے صوبائی فوکل پرسن کے طور پر کام کریں گے۔ منصوبہ بندی کمیشن میں قائم نیشنل پروگرام سیل (Npc) سیکریٹریٹ مرکزی ڈیٹا بینک کے طور پر کام کرے گا، جہاں تمام وفاقی اور صوبائی اکائیاں ہر 15 دن اور سہ ماہی بنیادوں پر اہم اشاریوں کا ڈیٹا شیئر کریں گی تاکہ نظام میں شفافیت اور مؤثر مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس ڈیکلریشن کا مقصد صرف آبادی پر قابو پانا ہی نہیں بلکہ ماں اور بچے کی صحت میں بہتری، بچوں میں غذائی قلت میں کمی، خواتین کو تعلیمی و معاشی دھارے میں لانا اور ملک کی نوجوان افرادی قوت کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔