خیبر پختونخوا میں تعلیمی اصلاحات اور ترقی کے دعووں کے برعکس ایک انتہائی تشویشناک صورتحال سامنے آئی ہے۔ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی جاری کردہ تازہ ترین سالانہ اسکولز شماریاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ صوبے کے 560 سرکاری پرائمری اسکول ایسے ہیں جہاں سرے سے کوئی ایک بھی کلاس روم موجود ہی نہیں ہے۔ ان 'صغیر کلاس رومز' والے اسکولوں میں 41 ہزار 528 معصوم بچے شدید موسموں میں کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں، جس نے صوبائی نظامِ تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کی سنگین حالت کو واضح کر دیا ہے۔
محکمہ تعلیم کی آفیشل دستاویزات کے مطابق، ان 560 بغیر کلاس روم والے اسکولوں میں صنف کی بنیاد پر تفریق بھی سامنے آئی ہے، جن میں 415 لڑکوں کے پرائمری اسکول اور 145 لڑکیوں کے پرائمری اسکول شامل ہیں۔ ان اسکولوں میں زیرِ تعلیم بچوں کی تعداد کا جائزہ لیا جائے تو لڑکوں کے اسکولوں میں 36 ہزار 908 طلبہ جبکہ لڑکیوں کے اسکولوں میں 4 ہزار 620 طالبات رجسٹرڈ ہیں جو بنیادی سفری اور تعلیمی سہولیات کے بغیر علم پیاس بجھا رہی ہیں۔
رپورٹ میں اس تشویشناک امر کی باقاعدہ نشان دہی کی گئی ہے کہ متعدد سرکاری اسکولوں میں بنیادی تعلیمی ڈھانچے کی موجودگی اور وہاں پڑھنے والے طلبہ کی حقیقی تعداد کے درمیان ایک بہت بڑا اور نمایاں خلا موجود ہے۔ کلاس رومز اور طلبہ کے تناسب کے اس شدید بگاڑ کے باعث تدریسی عمل بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے خود اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے اس خلا کو پُر کرنے کے لیے فوری حکومتی اقدامات اور بجٹ کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔