حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
خیبر پختونخوا میں زیرو ٹالرنس پالیسی؛ 827 کیسز پر کارروائی، 589 کرپٹ و نااہل سرکاری ملازمین کو سزائیں، نظام میں مزید شفافیت لائی جائے گی: سہیل آفریدی Home / سیاست /

خیبر پختونخوا میں زیرو ٹالرنس پالیسی؛ 827 کیسز پر کارروائی، 589 کرپٹ و نااہل سرکاری ملازمین کو سزائیں، نظام میں مزید شفافیت لائی جائے گی: سہیل آفریدی

ایڈیٹر - 25/08/2026
خیبر پختونخوا میں زیرو ٹالرنس پالیسی؛ 827 کیسز پر کارروائی، 589 کرپٹ و نااہل سرکاری ملازمین کو سزائیں، نظام میں مزید شفافیت لائی جائے گی: سہیل آفریدی

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت صوبے میں جاری کرپشن اور نااہلی کے خلاف احتسابی کارروائیوں سے متعلق ایک انتہائی اہم اور اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا ہے۔ اجلاس میں اکتوبر 2025 سے اب تک کے تمام احتسابی مقدمات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ صوبے میں احتساب سے کوئی بھی بالاتر نہیں ہے اور احتسابی نظام میں مزید شفافیت لائی جائے گی کیونکہ کرپشن کے خلاف حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی جاری ہے۔

دستیاب پارلیمانی و سرکاری دستاویزات کے مطابق، اکتوبر 2025 سے اب تک سرکاری افسران اور اہلکاروں کے خلاف مجموعی طور پر 827 کیسز سامنے آئے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ان میں سے 629 کیسوں کے فیصلے سنائے جا چکے ہیں جبکہ 198 کیسز پر کارروائی ابھی جاری ہے۔ فیصلہ شدہ کیسز کے نتیجے میں اب تک 589 افسران اور اہلکاروں کو مختلف نوعیت کی سخت سزائیں دی جا چکی ہیں، جبکہ محض 40 ملازمین الزامات سے بری ہو سکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، سخت ترین تادیبی کارروائیوں کے نتیجے میں 128 ملازمین کو فوری طور پر سروس سے فارغ، 18 کو برطرف اور 6 کو جبری ریٹائر کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 2 ملازمین کی تنزلی، ایک ملازم کی گرفتاری اور 89 ملازمین کی تنخواہوں سے باقاعدہ ریکوری کی گئی ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ سب سے بڑا جرم غیر مجاز غیر حاضری کا رہا جس کے 447 کیسز سامنے آئے جو کل کیسز کا 54 فیصد بنتے ہیں۔ اس کے بعد ڈیوٹی میں غفلت کے 120، کرپشن و مالی بے ضابطگیوں کے 75 اور نااہلی کے 75 کیسز رپورٹ ہوئے جن پر کڑی سزائیں دی گئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے تمام صوبائی محکموں کو میرٹ برقرار رکھنے اور سزا جزا کا یہ عمل تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔