حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
اسرائیل کے متنازع آبادکاری منصوبے پر یورپی یونین برہم، بڑا مطالبہ سامنے آگیا Home / بین الاقوامی /

اسرائیل کے متنازع آبادکاری منصوبے پر یورپی یونین برہم، بڑا مطالبہ سامنے آگیا

ایڈیٹر - 25/08/2026
اسرائیل کے متنازع آبادکاری منصوبے پر یورپی یونین برہم، بڑا مطالبہ سامنے آگیا

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): یورپی یونین نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے متنازع ای ون آبادکاری منصوبے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت سے منصوبے کا تعمیراتی ٹینڈر فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔

یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مغربی کنارے میں ای ون سمیت اسرائیلی آبادکاری کی سرگرمیاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں، اس لیے اسرائیل کو ان اقدامات سے باز آنا چاہیے۔

یورپی یونین کے مطابق ای ون منصوبے کے تحت مجوزہ تعمیرات مغربی کنارے کو جغرافیائی طور پر دو حصوں میں تقسیم کرسکتی ہیں، جبکہ مشرقی یروشلم کو بھی الگ تھلگ کرنے کا خدشہ ہے۔ یورپی حکام کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے فلسطین کے لیے دو ریاستی حل کے امکانات مزید محدود ہوجائیں گے۔

آبادکاری میں توسیع روکنے کا مطالبہ

یورپی یونین نے اسرائیلی حکومت پر زور دیا کہ ای ون منصوبے کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری کی دیگر توسیعی سرگرمیاں بھی فوری طور پر روکی جائیں۔

بیان میں آبادکاروں کے تشدد کا بھی ذکر کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔

یورپی یونین نے اس بات کو بھی سراہا کہ اسرائیلی استغاثہ کی جانب سے حالیہ دنوں میں آبادکاروں کے تشدد کے بعض واقعات میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔

کئی ممالک پہلے ہی اسرائیلی اقدام مسترد کرچکے

اسرائیل کی جانب سے عالمی مخالفت کے باوجود مقبوضہ بیت المقدس کے قریب ای ون منصوبے پر پیش رفت شروع کیے جانے پر کئی ممالک نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز، ناروے اور کینیڈا نے مشترکہ بیان میں منصوبے کے تعمیراتی ٹینڈرز جاری کرنے کے اسرائیلی فیصلے کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔

اس سے قبل برطانیہ نے بھی متنازع یہودی آبادکاری منصوبے کے لیے ٹینڈر جاری کرنے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسرائیلی ناظمِ امور کو طلب کرکے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا۔

یورپی یونین اور دیگر ممالک کا مؤقف ہے کہ مغربی کنارے میں آبادکاری کے ایسے منصوبے خطے میں کشیدگی بڑھانے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں فلسطین اور اسرائیل کے درمیان دو ریاستی حل کی راہ میں مزید رکاوٹیں پیدا کرسکتے ہیں۔