پشاور (نیوز رپورٹر): خیبر پختونخوا کے سرکاری پرائمری اسکولوں میں اساتذہ کی بڑے پیمانے پر برطرفی کے باعث صوبے میں شدید تعلیمی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق، صوبائی حکومت نے پرائمری اسکولوں میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر تعینات اساتذہ کو فارغ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت ان اساتذہ کی ملازمت کی مدت آج مکمل ہو جائے گی۔ اس فیصلے کے بعد یکم ستمبر سے کھلنے والے درجنوں اسکولوں میں پڑھانے کے لیے اساتذہ موجود نہیں ہوں گے۔
دستیاب تفصیلات کے مطابق، ان اساتذہ کو سال 26-2025 کے دوران یونیسیف پی ٹی سی (PTC) فنڈز کے تحت پشاور سمیت صوبے کے مختلف اضلاع اور علاقوں کے اسکولوں میں عارضی طور پر تعینات کیا گیا تھا۔ محکمہ تعلیم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کے پاس متبادل فنڈز موجود نہ ہونے کے باعث ان اساتذہ کے کنٹریکٹ کی مدت میں مزید توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں پشاور اور دیگر علاقوں کے پرائمری اسکولوں میں تدریسی عمل بری طرح متاثر ہونے کی توقع ہے۔
ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ رواں ماہ کے اختتام پر کنٹریکٹ کی مدت مکمل ہونے کے بعد تمام متعلقہ اساتذہ کو باقاعدہ طور پر فارغ کر دیا جائے گا۔ دوسری جانب، عوامی اور تعلیمی حلقوں نے حکومت کے اس اچانک فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یکم ستمبر سے تدریسی عمل شروع ہوتے ہی معصوم بچوں کا مستقبل داؤ پر لگ جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر متبادل فنڈز کا بندوبست کر کے اساتذہ کے کنٹریکٹ میں توسیع کرے۔