حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): ایرانی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ایران کو مکہ معاہدے میں شمولیت کے لیے تاحال کوئی باضابطہ دعوت موصول نہیں ہوئی، جبکہ تہران نے امریکا کی نئی معاشی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ ایران پر عائد کی جانے والی امریکی اقتصادی پابندیاں غیر قانونی ہیں اور تہران واشنگٹن کے اس دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا نے اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، جبکہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اور ایران کے باہمی تعلقات اس وقت اپنی تاریخ کے بہترین دور سے گزر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ ایران کے دوران دونوں ممالک کے باہمی تعلقات، سیکیورٹی اور دیگر اہم امور پر بات چیت متوقع ہے۔ ایرانی ترجمان نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ عمانی وزیر خارجہ کا دورۂ تہران فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے سے منسلک نہیں ہے۔ ان کے مطابق بلغاریہ کی جانب سے امریکا کے ساتھ مل کر حملے میں تعاون کرنا بھی ایک جارحانہ اقدام ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف مزید سخت معاشی اقدامات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسکاٹ بیسنٹ نے اپنے ایک مضمون میں مؤقف اختیار کیا کہ ایران کے خلاف نئی معاشی کارروائی غیر معمولی نوعیت کی ہوگی اور اسے کسی مخالف ملک کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی مالی کارروائی قرار دیا۔
امریکی وزیر خزانہ نے ان ممالک کو بھی خبردار کیا جو ایران کے ساتھ اقتصادی اور مالی روابط برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے ممالک کو اپنی پالیسی کے ممکنہ نتائج پر غور کرنا چاہیے۔
ایران نے امریکی دباؤ کے جواب میں بھی سخت اقدامات کی دھمکی دے دی ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا کہ اگر معاشی جنگ جاری رہی تو ایران خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سمیت کسی بھی راستے سے تیل کی برآمد روک سکتا ہے۔
محسن رضائی کے مطابق معاشی جنگ کی صورت میں ایران آبنائے ہرمز یا خلیج فارس کے کسی دوسرے راستے سے تیل کی ایک بوند بھی برآمد نہیں کرے گا۔
انہوں نے مزید خبردار کیا کہ جو ملک امریکا کی معاشی جنگ میں تعاون یا حمایت کرے گا، ایران اس اقدام کو ایرانی عوام کے خلاف جنگی اقدام تصور کرے گا۔
یوں ایک طرف امریکا کی جانب سے تہران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے اعلانات سامنے آرہے ہیں تو دوسری جانب ایران نے بھی پابندیوں کی صورت میں خطے میں توانائی کی ترسیل کے حوالے سے انتہائی سخت ردعمل کا عندیہ دے دیا ہے۔