حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم آئندہ ہفتے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ایک ہی عالمی فورم پر موجود ہوں گے، جہاں وزیراعظم شہباز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
ذرائع کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہ اجلاس 1 ستمبر 2026 کو بشکیک میں منعقد ہوگا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور نریندر مودی کی شرکت کی تصدیق ہوگئی ہے۔
اجلاس میں روس، چین اور ایران کے سربراہان کی شرکت بھی متوقع ہے۔ رکن ممالک کے قائدین اجلاس کے دوران خطے کی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی، باہمی تعاون اور اہم علاقائی و عالمی معاملات پر تبادلہ خیال کریں گے۔
ذرائع کے مطابق اسی روز شنگھائی تعاون تنظیم پلس کا اجلاس بھی منعقد ہوگا، جس میں ترکیہ، بیلاروس، منگولیا، آذربائیجان، آرمینیا اور ٹوگو کے سربراہان سمیت دیگر رہنما شریک ہوں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف 31 اگست کو بشکیک پہنچیں گے اور اگلے روز تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم 2 ستمبر کو کرغزستان کا دوطرفہ دورہ بھی کریں گے۔
کرغزستان رواں سال شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ تنظیم کے مطابق بشکیک میں 1 ستمبر 2026 کو رکن ممالک کے سربراہان مملکت کی کونسل کا اجلاس ہوگا، جس کی تیاریوں کو جولائی میں حتمی شکل دی گئی تھی۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدہ تعلقات کے باعث شہباز شریف اور نریندر مودی کی ایک ہی کثیر ملکی فورم پر موجودگی کو خاص اہمیت دی جارہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان متعدد معاملات پر اختلافات کے باوجود ایک ہی اجلاس میں شرکت علاقائی صورتحال کے حوالے سے توجہ کا مرکز بن سکتی ہے۔
تاہم ذرائع کے مطابق دونوں وزرائے اعظم کے درمیان کسی باضابطہ دوطرفہ ملاقات کا تاحال اعلان نہیں کیا گیا۔