حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ایران کی عسکری حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی، دفاع سے جارحانہ پالیسی کی جانب اہم اشارہ Home / بین الاقوامی /

ایران کی عسکری حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی، دفاع سے جارحانہ پالیسی کی جانب اہم اشارہ

ایڈیٹر - 23/08/2026
ایران کی عسکری حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی، دفاع سے جارحانہ پالیسی کی جانب اہم اشارہ

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): ایران کی عسکری اور سیکیورٹی قیادت نے مستقبل کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی دفاعی حکمتِ عملی میں نمایاں تبدیلی کے اشارے دے دیے ہیں۔ نئی حکمتِ عملی کے تحت ایران حملے کا انتظار کرنے کے بجائے ممکنہ خطرات کے خلاف پیشگی اقدامات اور کسی حملے کی صورت میں انتہائی سخت جواب دینے کی پالیسی اختیار کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

ایرانی امور کے ماہر اور کلنگنڈیل انسٹی ٹیوٹ کے محقق حمید رضا عزیزی کے مطابق تہران کی نئی عسکری سوچ کے 2 بنیادی پہلو نمایاں ہو رہے ہیں۔ پہلا ممکنہ خطرے کو عملی شکل اختیار کرنے سے قبل روکنے کی کوشش اور دوسرا حملے کی صورت میں دشمن کو بھاری قیمت چکانے پر مجبور کرنے کے لیے بھرپور جوابی کارروائی ہے۔

حمید رضا عزیزی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ ایران اب ابتدائی مرحلے ہی میں مخالف قوتوں کو خبردار اور روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق تہران یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ کسی حملے کی تیاری یا اس کی منصوبہ بندی بھی ایرانی ردعمل کا باعث بن سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک کو امریکا کی معاشی دباؤ کی پالیسی سے دور رہنے کا ایرانی انتباہ محض ایک معمولی بیان نہیں بلکہ سنجیدہ تنبیہ ہے، جبکہ ایرانی عسکری ادارے ممکنہ آئندہ کشیدگی کے لیے اپنی تیاریوں میں تیزی لا رہے ہیں۔

ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے سینئر عسکری مشیر یحییٰ رحیم صفوی نے بھی نئی حکمتِ عملی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ممکنہ جارحیت یا دھوکے کی روک تھام کے لیے ایران کا ردعمل بروقت، فیصلہ کن اور سوچ سمجھ کر ہونا چاہیے۔

ایرانی مسلح افواج کے ترجمان محمد اکرم نیا نے بھی نئی عسکری پالیسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امریکی اڈوں کے خلاف حالیہ کارروائیاں اسی بدلی ہوئی حکمتِ عملی کا حصہ تھیں۔ ان کے مطابق اگر ایران پر حقیقی حملہ کیا گیا تو اس کا جواب اصل حملے کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع اور شدید ہوسکتا ہے۔

اقتصادی محاذ پر بھی سخت مؤقف

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے نئی پالیسی کو صرف عسکری میدان تک محدود رکھنے کے بجائے اقتصادی اور جوہری معاملات تک وسعت دینے کا عندیہ دیا ہے۔

محسن رضائی کے مطابق اگر خلیجی ممالک نے ایران کے خلاف امریکی اقتصادی پابندیوں اور دباؤ میں واشنگٹن کا ساتھ دیا تو ایران خلیجِ فارس سے تیل کی ترسیل روکنے سمیت سخت اقدامات پر غور کرسکتا ہے۔

ایرانی حلقوں میں بین الاقوامی جوہری معاہدے اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے متعلق پالیسی پر نظرثانی کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں، جس سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تہران میں ایک جانب سفارتی راستوں کو کھلا رکھنے کی کوشش جاری ہے، تاہم دوسری جانب عسکری اور سیکیورٹی ادارے امریکا کے ساتھ ممکنہ مستقبل کی کشیدگی کے لیے ایک زیادہ فعال اور جارحانہ حکمتِ عملی ترتیب دے رہے ہیں۔