حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
بنگلادیش کا بڑا اشارہ، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے ممکنہ دفاعی اتحاد میں شمولیت پر اہم بیان Home / بین الاقوامی /

بنگلادیش کا بڑا اشارہ، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے ممکنہ دفاعی اتحاد میں شمولیت پر اہم بیان

ایڈیٹر - 22/08/2026
بنگلادیش کا بڑا اشارہ، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے ممکنہ دفاعی اتحاد میں شمولیت پر اہم بیان

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): بنگلادیش نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان تشکیل پانے والے ممکنہ اقتصادی یا دفاعی تعاون کے فریم ورک میں شامل ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا، تاہم ڈھاکا نے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

بنگلادیشی وزیراعظم کے مشیر ہمایوں کبیر نے کہا ہے کہ ان کا ملک پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ کسی ممکنہ اقتصادی یا دفاعی تعاون کا حصہ بننے کی تجویز کو مثبت انداز میں دیکھ رہا ہے، تاہم حتمی فیصلہ ملکی مفادات اور بدلتے ہوئے علاقائی و عالمی حالات کا جائزہ لینے کے بعد ہی کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بنگلادیش اپنی خارجہ اور معاشی پالیسی سے متعلق کسی بھی اقدام میں قومی مفادات، عالمی تجارت اور اقتصادی صورتحال کو بنیادی اہمیت دے گا۔ ان کے مطابق موجودہ علاقائی حالات کا جائزہ لینے کے بعد ہی اس معاملے پر حتمی پیش رفت ممکن ہوگی۔

پاکستان سے تعلقات مزید مضبوط بنانے پر توجہ

ہمایوں کبیر نے پاکستان اور بنگلادیش کے باہمی تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان عملی تعاون بڑھانے کے لیے اقدامات جاری ہیں، جبکہ عوامی سطح پر روابط کو مزید فروغ دینے پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بنگلادیشی وزیراعظم طارق رحمان جلد سعودی عرب کا دورہ کریں گے، جہاں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

بھارت کی بھی ممکنہ پیش رفت پر نظر

بنگلادیش کے ممکنہ طور پر اس دفاعی تعاون میں شامل ہونے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد بھارت نے بھی محتاط ردعمل اختیار کیا ہے۔

بھارتی حکام کے مطابق نئی علاقائی پیش رفت پر گہری نظر رکھی جارہی ہے، تاہم بنگلادیشی حکومت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ کسی ممکنہ اقتصادی یا دفاعی فریم ورک میں شمولیت کے حوالے سے فی الحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے کی اہمیت

واضح رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جسے معاہدۂ مکہ کا نام دیا گیا۔

معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے اس اصول پر اتفاق کیا کہ کسی ایک رکن ملک کے خلاف مسلح حملے کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس شق کو اجتماعی دفاع کے تصور کے حوالے سے نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثل قرار دیا جارہا ہے۔

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی و تزویراتی تعاون کو نئی سمت دے سکتا ہے اور خطے میں طاقت کے توازن پر بھی اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے معاہدے کی حمایت کو بھی اس پیش رفت کی سفارتی اہمیت کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔

تجزیوں کے مطابق اگر بنگلادیش مستقبل میں اس فریم ورک میں شمولیت اختیار کرتا ہے تو اس سے جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان دفاعی، معاشی اور سفارتی تعاون کا دائرہ مزید وسیع ہوسکتا ہے۔ تاہم فی الوقت ڈھاکا نے صرف اس امکان کو مثبت قرار دیا ہے اور کسی باقاعدہ شمولیت کا اعلان نہیں کیا۔