حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): آبنائے ہرمز میں تجارتی اور بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت بحال کرنے کے لیے نیٹو کے رکن ممالک نے باضابطہ اتحاد سے الگ رہتے ہوئے ممکنہ مشترکہ اقدامات پر مشاورت شروع کردی ہے۔
رائٹرز کے مطابق نیٹو کے اعلیٰ ترین فوجی کمانڈر امریکی فضائیہ کے جنرل الیکسس گرنکویچ نے رواں ہفتے مختلف اتحادی ممالک کے اعلیٰ عسکری حکام کا ویڈیو اجلاس منعقد کیا، جس میں آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کے ممکنہ طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نیٹو کے اعلیٰ کمانڈر کے ترجمان کے مطابق یورپ میں اتحادی افواج کے سپریم ہیڈکوارٹرز نے 19 اگست کو دفاعی سربراہان کی سطح پر اجلاس طلب کیا، جس میں ان ممالک نے شرکت کی جو آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت برقرار رکھنے کے لیے ممکنہ کردار ادا کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
ترجمان نے واضح کیا کہ زیر غور اقدامات نیٹو کے کسی باقاعدہ فوجی مشن کا حصہ نہیں ہیں۔ ان کے مطابق نیٹو اتحادی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے ان کی دستیاب عسکری صلاحیتوں کا جائزہ لینے اور ممکنہ تعاون میں سہولت فراہم کرسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نیٹو کے رکن ممالک ایران کے ساتھ جاری تنازع میں براہ راست فوجی مداخلت سے گریز کر رہے ہیں، تاہم اتحاد سے باہر رہتے ہوئے ایسے انتظامات پر غور کیا جارہا ہے جن کے ذریعے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کی راہ ہموار ہوسکے۔
عالمی تجارت کے لیے آبنائے ہرمز کو انتہائی اہم سمندری گزرگاہ سمجھا جاتا ہے۔ فروری سے قبل دنیا بھر میں تجارت ہونے والے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا تھا، جس کے باعث آبنائے میں کسی بھی طویل رکاوٹ کے عالمی توانائی منڈی اور تیل کی قیمتوں پر براہ راست اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق فرانس اور برطانیہ تقریباً 12 ممالک پر مشتمل ممکنہ اتحاد تشکیل دینے کی کوششوں میں پیش پیش ہیں۔ مجوزہ اتحاد کا مقصد کشیدگی کم ہونے یا تنازع ختم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت میں معاونت فراہم کرنا ہوگا۔
تاہم اس منصوبے کی کامیابی کے لیے ایران کی رضامندی کو بھی اہم قرار دیا جارہا ہے۔ اس لیے آبنائے ہرمز میں مستقل بحری انتظام کا انحصار عالمی طاقتوں کے باہمی تعاون کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ آئندہ سفارتی اور سیاسی پیش رفت پر بھی ہوگا۔