حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا قانونی جھٹکا، 75 ممالک کے شہریوں کے ویزے روکنے کی پالیسی کو منسوخ کر کے ختم کردیا Home / بین الاقوامی /

ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا قانونی جھٹکا، 75 ممالک کے شہریوں کے ویزے روکنے کی پالیسی کو منسوخ کر کے ختم کردیا

ایڈیٹر - 22/08/2026
ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا قانونی جھٹکا، 75 ممالک کے شہریوں کے ویزے روکنے کی پالیسی کو منسوخ کر کے ختم کردیا

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): امریکی وفاقی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے 75 ممالک کے شہریوں کے تارکین وطن ویزوں کی کارروائی معطل کرنے کی پالیسی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کردیا۔

مینہٹن کی امریکی ڈسٹرکٹ جج جینیٹ ورگاس نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے پاس قومیت کی بنیاد پر تارکین وطن کے ویزوں کی کارروائی روکنے کے لیے مطلوبہ قانونی اختیار موجود نہیں تھا۔

عدالت کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جنوری میں نافذ کی گئی پالیسی وفاقی امیگریشن قانون کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔ جج جینیٹ ورگاس نے واضح کیا کہ قانون وزیر خارجہ کو اس نوعیت کی وسیع پابندی عائد کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔

عدالت نے خاص طور پر اس پہلو پر اعتراض کیا کہ پالیسی کے تحت درخواست گزاروں کی قومیت کو بنیاد بنا کر ویزا کارروائی روک دی گئی، جبکہ امریکی امیگریشن قوانین میں اس طرح کی مکمل پابندی کی گنجائش موجود نہیں۔

پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک متاثر

جنوری میں نافذ ہونے والی اس پالیسی سے پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت ایشیا، افریقہ، مشرق وسطیٰ، کیریبین اور لاطینی امریکا کے متعدد ممالک کے شہری متاثر ہوئے تھے۔ برازیل، کولمبیا اور یوراگوئے کے علاوہ بوسنیا اور البانیہ بھی متاثرہ ممالک کی فہرست میں شامل تھے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے پابندی کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان ممالک سے آنے والے بعض درخواست گزاروں کے امریکا میں عوامی سہولیات اور سرکاری وسائل پر انحصار کرنے کا خدشہ زیادہ ہے، تاہم عدالت نے اس بنیاد پر تمام درخواست گزاروں کے ویزے روکنے کو قانونی اختیار سے تجاوز قرار دے دیا۔

مقدمہ کس نے دائر کیا؟

یہ مقدمہ تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں، ویزا درخواست گزاروں اور ان امریکی شہریوں کی جانب سے دائر کیا گیا تھا جو اپنے خاندان کے افراد کو امریکا منتقل کرنے کے لیے اسپانسر کررہے تھے۔

مقدمہ دائر کرنے والوں میں کیتھولک لیگل امیگریشن نیٹ ورک اور افریکن کمیونٹیز ٹوگیدر سمیت دیگر درخواست گزار شامل تھے۔

جج جینیٹ ورگاس کو سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے مقرر کیا تھا۔ ان کے فیصلے سے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسیوں کو ایک اور اہم قانونی چیلنج کا سامنا ہوگیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اپنی سخت امیگریشن پالیسیوں کو امریکا کی داخلی سلامتی مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ تارکین وطن کے حقوق کی تنظیمیں ان پالیسیوں پر امتیازی سلوک اور قانونی حقوق متاثر ہونے کے خدشات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے تاحال عدالتی فیصلے پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔ اب توجہ اس بات پر ہے کہ امریکی حکومت فیصلے کے خلاف اپیل یا مزید قانونی کارروائی کرتی ہے یا نہیں۔