حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ٹرمپ کی ایران کے حامی ممالک کو سخت دھمکی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں Home / بین الاقوامی /

ٹرمپ کی ایران کے حامی ممالک کو سخت دھمکی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

ایڈیٹر - 22/08/2026
ٹرمپ کی ایران کے حامی ممالک کو سخت دھمکی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تجارتی روابط رکھنے والے ممالک، کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کو خبردار کیا ہے کہ تہران کو معاشی معاونت فراہم کرنے کی صورت میں انہیں بھی سخت اقتصادی اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو معاشی سہارا دینے والے کسی بھی ملک کو امریکی کارروائی سے استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا۔ امریکی صدر کی اس دھمکی کے بعد عالمی توانائی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل اور امریکی خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل 6ویں روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ہفتہ وار بنیاد پر برینٹ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت میں 5 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔

ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ یہ خدشہ ہے کہ نئی امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ایران کی تیل برآمدات مزید محدود ہوسکتی ہیں، جس سے عالمی منڈی میں رسد متاثر ہونے کا امکان ہے۔

ایران پہلے ہی امریکی بحری دباؤ اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں چین سرفہرست ہے۔ چین نے 2025 کے دوران ایران سے تقریباً 13 لاکھ 80 ہزار بیرل یومیہ خام تیل درآمد کیا تھا، اس لیے نئی امریکی پابندیاں بیجنگ کے لیے بھی ایک اہم چیلنج بن سکتی ہیں۔

ترکی، عراق، عمان، پاکستان اور بھارت بھی ایران کے نمایاں تجارتی شراکت داروں میں شامل ہیں، جس کے باعث امریکی پابندیوں کے ممکنہ اثرات خطے کی تجارت اور توانائی کے شعبے تک پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئی پابندیوں کی تفصیلات پیر کو جاری کی جائیں گی، جبکہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے مجوزہ اقدامات کو ایران کے خلاف اب تک کی سخت ترین مالی پابندیوں میں شمار کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کی تیل برآمدات پر دباؤ مزید بڑھا تو عالمی توانائی منڈی میں قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ پیدا ہوسکتا ہے، جس کے اثرات مختلف ممالک کی معیشتوں اور صارفین تک پہنچنے کا امکان ہے۔