حسبان میڈیا(ویب ڈیسک): ملائیشیا کے وزیر داخلہ سیف الدین ناسوتیون بن اسماعیل نے صدر مملکت آصف علی زرداری اور وفاقی وزیر داخلہ و انسداد منشیات محسن رضا نقوی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی، انسداد دہشت گردی، منشیات کی روک تھام، انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے دوران دونوں ملکوں کے اداروں کے درمیان قانون نافذ کرنے، داخلی سلامتی اور امیگریشن کے شعبوں میں تعاون مزید مستحکم کرنے پر زور دیا گیا۔
ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ و انسداد منشیات سید محسن رضا نقوی، ملائیشیا کے ہائی کمشنر محمد اظہر مزلان، رائل ملائیشیا پولیس کی اسپیشل برانچ کے ڈائریکٹر ابراہیم داروس اور محکمہ جیل خانہ جات کے ڈپٹی کمشنر جنرل بحالی حافظ عثمان سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے۔
صدر مملکت نے ملائیشین وزیر داخلہ اور ان کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ملائیشیا کے ساتھ اپنے دیرینہ، برادرانہ اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی روابط میں مثبت پیش رفت ہورہی ہے، بالخصوص داخلی سلامتی، قانونی معاملات اور امیگریشن کے شعبوں میں بڑھتا ہوا تعاون باہمی مفادات کے لیے اہم ہے۔
ملاقات میں دوطرفہ تجارت بڑھانے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ صدر آصف علی زرداری نے ملائیشیا کی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے چاول، آلو، گندم، پولٹری مصنوعات اور جانوروں کی خوراک سمیت ان پاکستانی اشیا کا ذکر کیا جن کی ملائیشین مارکیٹ میں طلب موجود ہے۔
ملائیشیا کے وزیر داخلہ نے بتایا کہ 2026 میں پاکستان اور ملائیشیا کے سفارتی تعلقات کو 69 برس مکمل ہوجائیں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط 1957 میں ملائیشیا کے قیام کے بعد شروع ہوئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان کے مختلف شہروں اور ملائیشیا کے درمیان ہفتہ وار 14 پروازیں چل رہی ہیں جبکہ فضائی رابطوں کو مزید وسعت دینے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔
دوسری جانب ملائیشین وزیر داخلہ کی قیادت میں وفد نے وزارت داخلہ میں وفاقی وزیر داخلہ و انسداد منشیات محسن رضا نقوی سے بھی ملاقات کی، جس کے بعد دونوں ملکوں کے وفود کے درمیان مذاکرات ہوئے۔
مذاکرات میں انسداد دہشت گردی، منشیات کے خاتمے، غیر قانونی امیگریشن اور سائبر جرائم کی روک تھام سمیت مختلف سیکیورٹی معاملات پر تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
دونوں جانب سے کوسٹ گارڈز کے شعبے میں تجربات کے تبادلے اور تربیتی پروگراموں میں تعاون بڑھانے پر بھی گفتگو ہوئی۔
ملاقات کے دوران پاکستان اور ملائیشیا کی وزارت داخلہ کے درمیان روابط کو مزید منظم بنانے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ اس سلسلے میں پاکستان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد جلد ملائیشیا کا دورہ کرے گا۔
پاکستان اور ملائیشیا نے دہشت گردوں اور منشیات کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی مؤثر بنانے کے لیے خفیہ معلومات کے تبادلے پر بھی اتفاق کیا۔
دونوں ممالک نے انسداد دہشت گردی، منشیات کے خاتمے اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کو مزید مؤثر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ نیشنل پولیس اکیڈمی اور رائل ملائیشین پولیس کالج کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
محسن رضا نقوی نے کہا کہ پاکستان ملائیشیا کے کوسٹ گارڈ کے شعبے میں موجود تجربات سے فائدہ اٹھانے کا خواہاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملائیشین وزیر داخلہ کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
ملاقات میں پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان سیاحتی روابط بڑھانے اور ویزا سہولیات آسان بنانے کے امور بھی زیر بحث آئے۔
محسن رضا نقوی نے کہا کہ ملائیشیا پاکستانی شہریوں کے لیے ایک اہم سیاحتی منزل ہے، جبکہ پاکستانیوں کے لیے ورک کوٹے میں اضافے سے مزید افراد کو قانونی ذرائع سے ملائیشیا میں روزگار کے مواقع حاصل ہوسکیں گے۔
ملاقات میں وزیر مملکت طلال چوہدری، وفاقی سیکریٹری داخلہ، ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے، انسپکٹر جنرل وفاقی کانسٹیبلری، نیشنل کوآرڈینیٹر نیکٹا، ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ، چیف کمشنر و انسپکٹر جنرل اسلام آباد سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔
پاکستان اور ملائیشیا کے حکام نے اس موقع پر دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے اور مختلف شعبوں میں ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔