حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق عدالتی فیصلے پر وفاقی حکومت نے ایک بار پھر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے سپریم کورٹ میں نئی متفرق نظرثانی درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں عدالت سے 18 اگست کے فیصلے پر نظرثانی کرنے اور سابقہ حکم واپس لینے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کا حکم قانون اور جیل قوانین سے مطابقت نہیں رکھتا، اس لیے عدالتی فیصلے پر نظرثانی ضروری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ درخواست سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے پہلے عائد کیے گئے اعتراضات دور کرنے کے بعد دوبارہ جمع کرائی ہے۔ اس سے قبل بھی وفاقی حکومت نے عمران خان کی اسپتال منتقلی کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کی تھی، تاہم رجسٹرار آفس نے اعتراضات عائد کرکے درخواست واپس کردی تھی۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے بدھ کے روز عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب انہیں پمز اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کا طبی معائنہ کیا، جس کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔
عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے سے قبل اڈیالہ جیل میں ضروری قانونی کارروائی مکمل کی گئی تھی۔ میڈیکل بورڈ میں شامل ڈاکٹر عظمیٰ اور ڈاکٹر فیصل نے بھی جیل کے اندر عمران خان کا طبی معائنہ کیا تھا۔
اسپتال منتقلی کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ اسلام آباد پولیس نے شفا انٹرنیشنل اسپتال جانے والے راستوں پر ٹریفک محدود کردی جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری بھی تعینات کی گئی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اس معاملے پر سوشل میڈیا بیان میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
ان کے مطابق ماہر امراض چشم، ماہر امراض قلب اور فزیشن سمیت مختلف شعبوں کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم نے عمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا۔
بعد ازاں عطا تارڑ نے بتایا کہ عمران خان کا پمز اسپتال میں بھی طبی معائنہ کیا گیا، جہاں الشفا اسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔ ان کے مطابق طبی معائنے کے بعد بانی پی ٹی آئی کو صحت مند قرار دیا گیا۔
حکومت کی نئی نظرثانی درخواست کے بعد عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق عدالتی حکم ایک بار پھر سپریم کورٹ کے سامنے زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔