وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر اپوزیشن کو مذاکرات ਦੀ دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم اب یہ اپوزیشن پر منحصر ہے کہ وہ کب تک مذاکرات کی میز پر آتی ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 32 روپے کی کمی کو خوش آئند قرار دیا اور اس سلسلے میں وزارتِ پیٹرولیم کی کاوشوں کو سراہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت خطے کے کئی ممالک میں ریفائنریز اور گیس پلانٹس بند ہیں اور عالمی صورتحال کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ ان تمام تر مشکل حالات کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے 128 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں لیکن تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، اب گیند اپوزیشن کے کورٹ میں ہے۔