آصف مغل
کبوتر چوک میں گرین بیلٹ کو خوبصورت بنانے کے لیے پودے، پھول اور چھوٹے درخت لگانے کا کام شروع ہو چکا ہے، جو یقیناً ایک خوش آئند قدم ہے۔
لیکن صرف پودے لگا دینا کافی نہیں، ان کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یہ جگہ جتنی خوبصورت ہوگی، اتنا ہی ہمارا شہر خوبصورت اور صاف نظر آئے گا۔
میری ایک گزارش یہ بھی ہے کہ گرین بیلٹ کے مرکزی حصے کو مناسب جنگلے سے محفوظ کیا جائے تاکہ ہر کوئی وہاں بیٹھنے، کچرا پھینکنے یا پودوں کو نقصان پہنچانے نہ پہنچ جائے۔
ساتھ ہی پیدل چلنے والوں کے لیے محفوظ فٹ برج اور مخصوص پیدل راستے بنائے جائیں، جبکہ سڑک عبور کرنے کے لیے چند باقاعدہ اور محفوظ مقامات مقرر کیے جائیں۔ ایسا نہ ہو کہ لوگ جہاں مناسب سمجھیں، وہیں سے سڑک کراس کرنا شروع کر دیں۔
دنیا کے بہت سے ممالک میں پیدل چلنے والوں کی سہولت اور حفاظت کے لیے باقاعدہ کراسنگ پوائنٹس، فٹ برج اور مخصوص راستے بنائے جاتے ہیں۔ ہمیں بھی اپنے شہر میں اسی طرح کی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
ترقی صرف سڑکیں اور پل بنانے کا نام نہیں، بلکہ ایک خوبصورت، صاف اور محفوظ شہر بنانا بھی ترقی ہے۔
حکومت اور متعلقہ ادارے اپنا کام کریں، اور ہم عوام بھی اپنی ذمہ داری نبھائیں۔
پودوں کی حفاظت کریں، کچرا نہ پھینکیں اور شہر کو اپنا گھر سمجھیں۔