امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے معاملے پر پیچھے نہیں ہٹتی تو جماعت اسلامی اپنے لائحہ عمل میں آگے بڑھے گی۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ موجودہ حکومت کا پورا نظام عوام کو راحت فراہم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے اور اسی ناکامی کی وجہ سے ملک کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سخت شرائط ماننا پڑتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیوی کی صورت میں عوام سے "جگا ٹیکس" وصول کیا جا رہا ہے، جبکہ لیوی لگانے کا اصل مقصد پیٹرولیم مصنوعات کی لاگت میں کمی لانا تھا۔
امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ گزشتہ روز ڈیزل کی قیمت میں صرف 30 روپے کی کمی کی گئی، حالانکہ عالمی اور مقامی تناسب سے یہ کمی 130 روپے تک ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر لیوی مکمل ختم کر دی جائے تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 200 سے 250 روپے فی لیٹر تک آ سکتی ہیں۔
انہوں نے انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (IPPs) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آئی پی پیز سے دوبارہ بات چیت کی جائے تو بجلی کی قیمتوں میں 30 فیصد تک کمی ممکن ہے۔ ملک بھر میں شدید لوڈشیڈنگ کے باوجود عوام سے کیپسیٹی پیمنٹس وصول کی جا رہی ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے ان سے مذاکرات سے متعلق رابطہ کیا ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حوالے سے کہا کہ ان سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ پہلے آنا چاہیے تھا، اور عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو فوراً رہا کیا جانا چاہیے۔