حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کے لیے کاشتکاروں پر انکم ٹیکس لگانے پر غور Home / پاکستان /

آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کے لیے کاشتکاروں پر انکم ٹیکس لگانے پر غور

ایڈیٹر - 20/08/2026
آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کے لیے کاشتکاروں پر انکم ٹیکس لگانے پر غور

زرعی انکم ٹیکس کی وصولی کے معاملے پر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو مطمئن کرنے کے لیے صوبوں کے ساتھ مشاورت اور متبادل پلان کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق صوبوں سے زرعی انکم ٹیکس کے واجبات اور ٹیکس گوشواروں کے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کے لیے 30 ستمبر تک انتظار کیا جائے گا۔ اگر صوبے مقررہ مدت تک وصولی اور اہداف حاصل نہ کر سکے تو اکتوبر میں متبادل منصوبہ تیار کیا جائے گا، جس کے تحت زرعی انکم ٹیکس کے لیے فکس ٹیکس سکیم متعارف کرانے پر مشاورت کا امکان ہے۔ مجوزہ سکیم کے تحت زرعی شعبے میں فی ایکڑ 5 ہزار روپے تک انکم ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پر غور کیا جا سکتا ہے۔ تاجر طبقے کی فکس ٹیکس سکیم کی طرز پر کاشتکاروں اور زمینداروں کے لیے بھی اکتوبر میں ایک مقررہ ٹیکس نظام لانے کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔

دوسری جانب آئی ایم ایف کی دستاویزات کے مطابق پاکستان میں زرعی انکم ٹیکس کی وصولی میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے، جبکہ زرعی شعبہ ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے کے باوجود ٹیکس وصولی میں انتہائی کم حصہ ڈال رہا ہے۔ آئی ایم ایف دستاویز کے مطابق ملکی معیشت میں زرعی شعبے کا حصہ 24.5 فیصد ہے، تاہم مجموعی ٹیکس وصولی میں اس شعبے کا حصہ صرف 0.3 فیصد ہے۔