امریکا کا مجموعی عمومی قرضہ تاریخ میں پہلی بار 40 ٹریلین ڈالر کی ریکارڈ سطح سے تجاوز کر گیا ہے، جس کے بعد ملک میں سنگین مالیاتی بحران کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سال 2017 کے بعد سے اب تک امریکی قرضے کی شرح دگنی ہو چکی ہے۔ جنوری 2017 میں، جب ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار امریکی صدر کے طور پر حلف اٹھایا تھا، اس وقت ملک کا کل قرضہ 19.95 ٹریلین ڈالر تھا جو اب بڑھ کر 40 ٹریلین ڈالر سے زائد ہو چکا ہے۔
محکمہ خزانہ کے مطابق صدر ٹرمپ کی دونوں صدارتی مدت کے دوران قومی قرضے میں مجموعی طور پر 11.6 ٹریلین ڈالر کا اضافہ ہوا، جبکہ سابق صدر جو بائیڈن کی چار سالہ مدتِ صدارت کے دوران قرض کے حجم میں 8.4 ٹریلین ڈالر کی بڑھوتری ریکارڈ کی گئی۔
امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ ٹیکسوں میں کی گئی کمی کے باعث حکومتی آمدنی (ریونیو) میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ دوسری جانب قرض پر سود کی بڑھتی ہوئی ادائیگیاں اور سماجی بہبود (سوشل ویلفیئر) کے اخراجات میں مسلسل اضافے نے امریکی مالیاتی نظام پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔