اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت کے ابتدائی 28 ماہ کے دورِ اقتدار میں ملکی تاریخ کے ریکارڈ قرضے حاصل کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں مجموعی وفاقی قرضوں میں 18 ہزار 832 ارب روپے کا بھاری اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، مارچ 2024 سے جون 2026 کے درمیانی عرصے میں حکومت کے مقامی اور بیرونی قرضوں کی شرح میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی اوسط یومیہ شرح 22 ارب 40 کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے۔
اسٹیٹ بینک کی باضابطہ دستاویزات کے مطابق نگران حکومت کے آخری مہینے یعنی فروری 2024 تک وفاقی حکومت کے کل قرضے 64 ہزار 810 ارب روپے کی سطح پر مستحکم تھے، جو گزشتہ 28 ماہ کے دوران ہونے والے ریکارڈ اضافے کے بعد جون 2026 تک بڑھ کر 83 ہزار 642 ارب روپے کی بلند ترین سطح کو چھو چکے ہیں۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق یومیہ بنیادوں پر اربوں روپے کے اس اضافے نے ملکی معیشت اور بجٹ مینجمنٹ پر دباؤ انتہائی بڑھا دیا ہے۔
قرضوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ فروری 2024 تک وفاقی حکومت کا مقامی (Internal) قرضہ 42 ہزار 675 ارب روپے تھا، جو جون 2026 کے اختتام تک بڑھ کر 59 ہزار 441 ارب روپے تک جا پہنچا۔ اس طرح صرف مقامی مارکیٹ اور بینکوں سے لیے گئے قرضے میں 16 ہزار 766 ارب روپے کا نیٹ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
دوسری جانب، بیرونی (External) محاذ پر بھی قرضوں کا بوجھ برقرار رہا۔ فروری 2024 تک مرکزی حکومت کا بیرونی قرضہ 22 ہزار 134 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا تھا، جو جون 2026 تک مزید 2 ہزار 66 ارب روپے کے اضافے کے ساتھ 24 ہزار 201 ارب روپے کی حد پار کر چکا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مقامی قرضوں میں یہ تیز رفتار اضافہ ملکی بینکنگ سیکٹر پر حکومت کے بڑھتے ہوئے انحصار اور نجی شعبے کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع محدود ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔