واشنگٹن/اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین طے پانے والے تاریخی "مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے" کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے کے استحکام کے لیے ایک بڑا اور جرات مندانہ قدم قرار دیا ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر جاری کردہ ایک خصوصی بیان میں امریکی صدر نے تینوں اسلامی ممالک کی اعلیٰ قیادت کو اس تزویراتی (Strategic) پیش رفت پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں یہ دیکھ کر دلی مسرت ہوئی ہے کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے بالآخر مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر باضابطہ دستخط کر دیے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ یہ تاریخی معاہدہ اس بات کا واضح مظہر ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اب اتحاد کی راہ پر گامزن ہے، اور خطے کے ممالک آخرکار زیادہ مؤثر اور خودمختار انداز میں اپنا دفاع کرنے کی بھرپور صلاحیت حاصل کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس پیش رفت کو مسلم دنیا کی عظیم قیادت کی جانب سے امن کی سمت ایک جرات مندانہ اور اہم ترین پہلا قدم قرار دیا۔
یاد رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین یہ تاریخی دفاعی معاہدہ رواں ماہ 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں طے پایا تھا، جس پر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کی بنیادی شق کے تحت مشترکہ دفاعی نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے، جس کی رو سے پاکستان، سعودی عرب یا ترکیہ میں سے کسی بھی ایک ملک پر حملہ، تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
دوسری جانب، پاکستانی دفترِ خارجہ نے اس تزویراتی اتحاد کے دائرہ کار میں مزید توسیع کا اشارہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ صرف ان تین ممالک تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ خطے میں پائیدار امن و سلامتی کے قیام کے لیے دیگر دوست ممالک کو بھی اس شراکت داری کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ عالمی تجزیہ کار امریکی صدر کے اس مثبت ردعمل کو اس نئے دفاعی بلاک کے لیے ایک اہم سفارتی توثیق قرار دے رہے ہیں۔