حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
جب تک تہران کے شرائط مانے نہیں جاتے ،آبنائے ہرمز کھولنے سے ایران کا صاف انکار، امریکا کے دعوے مسترد Home / بین الاقوامی /

جب تک تہران کے شرائط مانے نہیں جاتے ،آبنائے ہرمز کھولنے سے ایران کا صاف انکار، امریکا کے دعوے مسترد

ایڈیٹر - 13/08/2026
جب تک تہران کے شرائط مانے نہیں جاتے ،آبنائے ہرمز کھولنے سے ایران کا صاف انکار، امریکا کے دعوے مسترد

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): ایران نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم ہونے سے متعلق امریکی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اہم بحری راستہ فوری طور پر کھولنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ایرانی پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی حکام کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق بیانات اور اعلانات زمینی صورتحال تبدیل نہیں کرسکتے۔

ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز تاحال بند ہے اور اس کی معمول کی بحری آمدورفت اس وقت تک بحال نہیں کی جائے گی جب تک ایران کی شرائط تسلیم نہیں کی جاتیں۔

تہران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کو صرف تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے تناظر میں نہیں دیکھا جاسکتا بلکہ اس کا براہ راست تعلق خطے میں جاری فوجی کشیدگی اور امریکا کی مبینہ بحری ناکہ بندی سے بھی ہے۔

ایرانی حکام پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ بحری راستے پر معمول کی سرگرمیاں بحال کرنے کے لیے امریکا کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں، بحری ناکہ بندی اور دیگر اقدامات ختم کرنا ہوں گے۔

ایران اور عمان میں مذاکرات جاری

دوسری جانب ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق بات چیت بھی جاری ہے۔ مذاکرات میں محفوظ بحری گزرگاہ اور تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ بات چیت آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے حتمی فیصلے سے الگ ہے، اس لیے مذاکرات کو فوری بحالی کی علامت قرار نہیں دیا جاسکتا۔

عالمی توانائی منڈی پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے روزانہ بڑی مقدار میں خام تیل اور توانائی کی دیگر مصنوعات عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر اس راستے پر طویل عرصے تک آمدورفت معطل یا محدود رہی تو عالمی تیل کی فراہمی متاثر ہوسکتی ہے، جس سے خام تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ اور عالمی بحری تجارت پر دباؤ آنے کا امکان ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کے لیے بھی بڑا چیلنج بن سکتی ہے، کیونکہ اس کے اثرات تیل کی قیمتوں سے لے کر مختلف ممالک کی توانائی ضروریات اور معاشی سرگرمیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

ایرانی مؤقف سے بظاہر واضح ہے کہ آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کے معاملے پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان اختلافات اب بھی برقرار ہیں، جس کے باعث فوری طور پر معمول کی بحری آمدورفت بحال ہونے کے امکانات محدود دکھائی دے رہے ہیں۔