حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): چین میں تیار کی جانے والی تجرباتی میگ لیو ٹرین نے انتہائی تیز رفتاری کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے صرف 5.3 سیکنڈ میں صفر سے 800 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کرلی۔
چینی صوبے ہوبئی کی ڈونگ ہو لیبارٹری میں ایک کلومیٹر طویل آزمائشی پٹری پر کیے گئے تجربے کے دوران ٹرین نے چند ہی لمحوں میں غیر معمولی رفتار حاصل کرکے محققین کو حیران کردیا۔
چینی محققین کے مطابق تجربے کا مقصد صرف رفتار کا مظاہرہ کرنا نہیں تھا بلکہ اتنی ہی تیزی سے چلنے والی ٹرین کو محفوظ انداز میں روکنے کی صلاحیت بھی جانچنا تھا۔ تجربے کے دوران ٹرین 800 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچی اور جدید بریکنگ نظام کی مدد سے تقریباً 200 میٹر کے فاصلے میں بتدریج رک گئی۔
میگ لیو ٹیکنالوجی میں مقناطیسی قوت کا استعمال کرتے ہوئے ٹرین کو پٹری سے معمولی فاصلے پر معلق رکھا جاتا ہے، جس کے باعث پہیوں اور پٹری کے درمیان رگڑ تقریباً ختم ہوجاتی ہے۔ یہی خصوصیت انتہائی بلند رفتار حاصل کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
چینی محققین نے تجربات کے دوران ہائی پاور توانائی کی فراہمی، برقی مقناطیسی محرک نظام، تیز رفتار معلق رکھنے کے نظام اور ہنگامی بریکنگ سمیت کئی اہم ٹیکنالوجیز کی کارکردگی بھی جانچی۔
چینی میگ لیو ٹرین نے جون 2025 میں صرف 7 سیکنڈ میں 650 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کرکے نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ بعد ازاں تجربات کے دوران 700 اور 798 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے سنگ میل بھی عبور کیے گئے۔
اب 800 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کرکے چینی محققین نے اپنا ہی سابقہ ریکارڈ مزید بہتر بنا دیا ہے۔
چین اور جاپان میں اس وقت زیرِ استعمال میگ لیو ٹرینیں تقریباً 320 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتی ہیں، جبکہ چین کی تجارتی میگ لیو ٹرینوں کی زیادہ سے زیادہ رفتار تقریباً 350 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق تجرباتی ٹرین کی حاصل کردہ رفتار مستقبل میں انتہائی تیز رفتار زمینی سفری نظام کی ترقی کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے، تاہم اسے عملی اور تجارتی سفر کے لیے استعمال کرنے سے قبل ٹیکنالوجی کے مزید تجربات اور حفاظتی مراحل مکمل کرنا ہوں گے۔