حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
عراق: اربیل پر ایرانی حملے، میزائل اور ڈرونز سے کرد ٹھکانوں کو نشانہ بنا دیا گیا Home / بین الاقوامی /

عراق: اربیل پر ایرانی حملے، میزائل اور ڈرونز سے کرد ٹھکانوں کو نشانہ بنا دیا گیا

ایڈیٹر - 12/08/2026
عراق: اربیل پر ایرانی حملے، میزائل اور ڈرونز سے کرد ٹھکانوں کو نشانہ بنا دیا گیا

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): ایران نے عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے کے دارالحکومت اربیل کے گرد موجود کرد مسلح گروہوں کے مبینہ ٹھکانوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جس کے بعد علاقے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی فورسز نے اربیل کے اطراف کرد پوزیشنز کو متعدد میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔ تاہم حملے کے فوری بعد جانی اور مالی نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔

اربیل میں 4 ڈرونز تباہ

رپورٹس کے مطابق ایرانی حملوں کے بعد اربیل صوبے میں 4 ڈرونز گر کر تباہ ہوئے۔ ابتدائی معلومات میں یہ واضح نہیں ہوسکا کہ یہ ڈرون کس فریق سے تعلق رکھتے تھے اور انہیں کس کارروائی کے نتیجے میں نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی کارروائی کا ہدف عراق کے کرد علاقے میں موجود کرد پوزیشنز کو قرار دیا جارہا ہے، تاہم حملے میں کسی ہلاکت یا زخمی ہونے کی سرکاری طور پر فوری تصدیق نہیں کی گئی۔

ایران اور کرد گروہوں میں پرانی کشیدگی

اربیل اور اس کے گردونواح میں ایران اور ایرانی کرد مسلح گروہوں کے درمیان کشیدگی نئی نہیں۔ تہران ماضی میں عراق کے کرد علاقوں میں موجود بعض کرد گروہوں کے ٹھکانوں کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا رہا ہے اور اس سے قبل بھی ان کے خلاف کارروائیاں کرچکا ہے۔

حالیہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں فوجی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ عراق بھی اس صورتحال سے متاثر ہورہا ہے، جہاں مختلف مسلح گروہوں کے علاوہ غیر ملکی افواج کی موجودگی نے سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رکھا ہے۔

خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اربیل کے قریب ایرانی حملے عراق کے کرد علاقے میں سکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ اگر اس نوعیت کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا تو اس کے اثرات صرف عراق کی داخلی صورتحال تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ایران، امریکا اور دیگر علاقائی قوتوں کے باہمی تعلقات بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

حکام کی جانب سے تاحال حملوں میں ہونے والے جانی یا مالی نقصان کے حوالے سے کوئی تفصیلی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا، جبکہ واقعے سے متعلق مزید معلومات کا انتظار ہے۔