حسبان میڈیا(ویب ڈیسک): وفاقی حکومت اور گڈز ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بھی کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا، جس کے باعث ملک بھر میں مال بردار گاڑیوں کی پہیہ جام ہڑتال 5ویں روز بھی جاری ہے۔
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے کہا ہے کہ ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال مکمل طور پر پرامن ہے اور اپنے جائز مطالبات کی منظوری تک اسے غیر معینہ مدت تک جاری رکھا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی، جس کی سربراہی وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کررہے ہیں، کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا دوسرا مرحلہ بھی کامیاب نہیں ہوسکا۔
ملک شہزاد اعوان نے واضح کیا کہ ٹرانسپورٹرز اس مرتبہ صرف زبانی یقین دہانیوں پر ہڑتال ختم نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے تمام مطالبات تحریری طور پر تسلیم کیے جانے کے بعد ہی پہیہ جام ختم کرنے کا اعلان کیا جائے گا۔
گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر کا کہنا تھا کہ اگر حکومت یہ سمجھ رہی ہے کہ گزشتہ دسمبر کی طرح ٹرانسپورٹرز چند یقین دہانیوں کے بعد احتجاج ختم کردیں گے تو ایسا نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہڑتال کو 5 دن گزر چکے ہیں اور اس کے باعث ملکی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے، تاہم وفاقی اور سندھ حکومت ٹرانسپورٹرز کے مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدہ دکھائی نہیں دے رہیں۔
ملک شہزاد اعوان نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ مطالبات کی منظوری میں اگر 6 ماہ بھی لگ گئے تو ہڑتال جاری رکھی جائے گی۔
یاد رہے کہ مذاکرات کے پہلے دور میں وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے ٹرانسپورٹرز کے مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے ان پر پیش رفت کی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم دوسرے مرحلے میں بھی فریقین کسی حتمی اتفاقِ رائے تک نہیں پہنچ سکے۔
دوسری جانب آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چوہدری ایڈووکیٹ نے بھی گزشتہ روز کہا تھا کہ ٹرانسپورٹرز کے مطالبات قانونی اور جائز ہیں اور ان کا تعلق ٹرانسپورٹ کے شعبے کو درپیش بنیادی مسائل سے ہے۔
انہوں نے واضح کیا تھا کہ حکومت کی جانب سے مطالبات تسلیم کیے جانے تک ملک بھر میں جاری پہیہ جام احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔
مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث مال بردار گاڑیوں کی ہڑتال بدستور جاری ہے، جس سے ملک میں اشیائے ضروریہ اور تجارتی سامان کی ترسیل سمیت مختلف کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ بڑھتا جارہا ہے۔