حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
پشاور میں جائیداد کا تنازعہ خونی انجام کو پہنچ گیا، چچا کی فائرنگ سے 3 بھتیجے جاں بحق Home / پاکستان /

پشاور میں جائیداد کا تنازعہ خونی انجام کو پہنچ گیا، چچا کی فائرنگ سے 3 بھتیجے جاں بحق

ایڈیٹر - 12/08/2026
پشاور میں جائیداد کا تنازعہ خونی انجام کو پہنچ گیا، چچا کی فائرنگ سے 3 بھتیجے جاں بحق

پشاور: متھرا کے علاقے باڑہ پل میں جائیداد کے تنازعے پر فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والا تیسرا بھائی بھی تقریباً 20 روز زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گیا، جس کے بعد واقعے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 3 ہوگئی۔

پولیس کے مطابق افسوسناک واقعہ 23 جولائی کو باڑہ پل میں پیش آیا تھا، جہاں جائیداد کی تقسیم کے معاملے پر جاری تنازعے کے دوران فائرنگ کی گئی۔

پولیس کو مقتولین کے والد نثار خان ولد عزت خان کی جانب سے واقعے کی رپورٹ درج کرائی گئی تھی۔

پہلے 2 بھائی فائرنگ میں جاں بحق ہوئے

پولیس رپورٹ کے مطابق نثار خان کے 2 بیٹے 44 سالہ اشفاق خان اور 40 سالہ اسحاق خان گھر میں موجود تھے جبکہ ان کا تیسرا بیٹا عارف احمد کھیتوں میں کام کررہا تھا۔

پولیس کے مطابق جائیداد کے تنازعے پر افتخار احمد اور عارف احمد کے درمیان پہلے تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ہوئی، جس کے دوران مبینہ طور پر افتخار احمد نے عارف سے پستول چھین کر فائرنگ کردی۔

فائرنگ کے نتیجے میں عارف احمد شدید زخمی ہوگیا، جسے فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

زخمی بھائیوں کو بچانے پہنچے تو خود نشانہ بن گئے

واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد عارف احمد کے والد نثار خان اپنے دونوں بیٹوں اشفاق خان اور اسحاق خان کے ہمراہ موقع پر پہنچے۔

پولیس کے مطابق عبدالوہاب بانڈہ، باڑہ پل کے مقام پر موجود افتخار احمد نے مبینہ طور پر دوبارہ فائرنگ کردی، جس کی زد میں آکر اشفاق خان اور اسحاق خان جاں بحق ہوگئے۔

فائرنگ کے دوران مقتولین کے والد نثار خان اور ایک راہگیر محبت شاہ بھی زخمی ہوئے تھے۔

20 روز زندگی کی جنگ لڑنے کے بعد عارف احمد بھی دم توڑ گیا

پولیس کے مطابق ابتدائی فائرنگ میں زخمی ہونے والے عارف احمد کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ تقریباً 20 روز تک زیرِ علاج رہا۔

تاہم ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود عارف احمد جانبر نہ ہوسکا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ اس طرح جائیداد کے تنازعے پر ہونے والی فائرنگ میں ایک ہی خاندان کے 3 بھائی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

عارف احمد کے انتقال کے بعد گھر میں ایک بار پھر صفِ ماتم بچھ گئی، جبکہ اس کی نمازِ جنازہ کے موقع پر علاقے میں بھی سوگ کی فضا رہی۔

ملزم جیل میں، مقدمے میں اہم پیش رفت

پولیس کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان جائیداد کی تقسیم پر تنازعہ کافی عرصے سے چلا آرہا تھا اور واقعے سے تقریباً 1 ہفتہ قبل بھی دونوں جانب تلخ کلامی اور جھگڑا ہوا تھا۔

پولیس کے مطابق مرکزی ملزم افتخار احمد کو گرفتار کیا جاچکا ہے اور وہ اس وقت جیل میں ہے۔

عارف احمد کے جاں بحق ہونے کے بعد پولیس نے مقدمے میں دفعات تبدیل کرکے اسے تہرے قتل کے مقدمے میں تبدیل کردیا ہے، جبکہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔