حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ مدتِ صدارت ختم ہونے تک امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے امکان کو مسترد کردیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو بڑا دھچکا پہنچنے کا خدشہ ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف کے مشیر ماجد شاکری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مدت مکمل ہونے تک واشنگٹن کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف نہیں بڑھے گا۔ ان کے مطابق تہران اپنی موجودہ حکمت عملی برقرار رکھے گا۔
ماجد شاکری نے واضح کیا کہ ایران کے نزدیک امریکا سے نمٹنے کا راستہ نہ جنگ ہے اور نہ ہی فوری معاہدہ، بلکہ اس میں انکار، ابہام اور طویل المدتی حکمت عملی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کی کھلے عام تصدیق کرنا ایران کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی مشیر کے مطابق تہران نے اپنے مطالبات برقرار رکھے ہوئے ہیں، جن میں 300 ارب ڈالر کے معاوضے، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور خطے سے امریکی افواج کے انخلا سمیت دیگر مطالبات شامل ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز کی بحری آمدورفت بحال کرنے کو بھی ان مطالبات سے جوڑ رکھا ہے۔
اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا تھا کہ واشنگٹن کے ساتھ فی الحال براہِ راست مذاکرات نہیں ہورہے۔ ان کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے تاکہ مستقبل میں بات چیت کی بحالی کے لیے حالات پیدا کیے جاسکیں۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ جب تک امریکا مبینہ خلاف ورزیوں کا ازالہ اور معاوضے سے متعلق ایرانی مطالبات پر پیش رفت نہیں کرتا، تہران مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ انہوں نے موجودہ رابطوں کو مذاکرات کے بجائے صرف پیغامات کا تبادلہ قرار دیا۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی ایران نے سخت مؤقف اختیار کر رکھا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو میں کہا کہ آبنائے کو اس وقت تک بند رکھنے کی حکمت عملی برقرار رہے گی جب تک ایران کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔
حسین محبی کے مطابق موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز محض ایک اہم بحری گزرگاہ نہیں رہی بلکہ ایران اسے جاری تنازع کا ایک اہم محاذ سمجھتا ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی جانب سے بھی کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اس وقت تک برقرار رہ سکتی ہے جب تک امریکا اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی نہیں لاتا۔
ایرانی مؤقف میں سختی کے باعث امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں کی بحالی، علاقائی کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری سرگرمیوں کی واپسی کے امکانات مزید پیچیدہ ہوگئے ہیں۔