حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے اعلان کیا ہے کہ حج کے انتظامی نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنا دیا گیا ہے، جس کے تحت عازمین گھر بیٹھے حج درخواست جمع کرانے سمیت دیگر ضروری مراحل مکمل کرسکیں گے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سردار محمد یوسف کا کہنا تھا کہ نئے نظام کا مقصد عازمین کو سرکاری دفاتر کے چکر، انتظار اور طویل قطاروں کی زحمت سے بچانا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق تقریباً 4 لاکھ رجسٹرڈ عازمین گھر سے ہی درخواستیں جمع کراسکیں گے۔ حج اخراجات کی ادائیگی کے لیے 3 طریقے متعارف کرائے گئے ہیں، جن میں کریڈٹ کارڈ، پی ایس آئی ڈی کے ذریعے ادائیگی اور چالان فارم کے ذریعے نقد رقم جمع کرانا شامل ہے۔
سردار محمد یوسف نے بتایا کہ سرکاری حج اسکیم کے تحت 1 لاکھ 7 ہزار 526 عازمین کے لیے کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ پہلی قسط کی وصولی 17 اگست سے شروع ہوگی جبکہ حج اخراجات کی دوسری قسط اکتوبر میں وصول کی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ درخواستیں پہلے آئیے، پہلے پائیے کی بنیاد پر وصول کی جائیں گی اور مقررہ کوٹہ مکمل ہوتے ہی درخواستوں کا عمل روک دیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ نجی حج اسکیم کے تحت عازمین پاک حج ایپ کے ذریعے اپنی پسند کے نجی حج منتظم کا انتخاب کرسکیں گے۔
انہوں نے عازمین کو ہدایت کی کہ نجی حج منتظم کو براہِ راست رقم ادا کرنے سے گریز کریں اور ادائیگی کے لیے مقررہ سرکاری طریقہ کار اختیار کریں۔
حکومت کے مطابق حج کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے کا مقصد درخواست سے لے کر ادائیگی تک کے مراحل کو آسان، شفاف اور عازمین کے لیے زیادہ سہل بنانا ہے۔