حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان ہونے والا سہ فریقی دفاعی معاہدہ ایران کے لیے خطرہ نہیں، تاہم خطے میں جاری کشیدگی کا ذمہ دار انہوں نے امریکا کو قرار دیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ امریکا کی پالیسیاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ امریکی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
ایرانی ترجمان نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے کہا کہ اگر کسی تیسرے فریق کی مداخلت نہ ہو تو آبنائے ہرمز کو کھولنے کی گنجائش موجود ہے۔ تاہم ان کے مطابق عمان کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے تحفظ کی مکمل ضمانت نہیں دیتا اور اس معاہدے میں امریکا شامل نہیں ہے۔
امریکا سے براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے
اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان فی الحال براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے، تاہم ثالثوں کے ذریعے دونوں جانب پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک عبوری معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رہے گا، امریکا کے ساتھ براہِ راست بات چیت نہیں کی جائے گی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ ایران کے خلاف نہیں اور تہران اسے اپنے لیے خطرہ نہیں سمجھتا۔