حسبان میڈیا (نیٹ ورک): پشاور ہائیکورٹ میں زیرِ التوا مقدمات کی تعداد 34 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ 4 ججز کی مستقلی کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کے باعث عدالت میں فعال ججز کی تعداد کم ہو کر 17 رہ گئی ہے، جس سے مقدمات کی سماعت اور فیصلوں کے عمل پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے 20 جولائی کو پشاور ہائیکورٹ کے 4 ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دے دی تھی، تاہم صدرِ مملکت کی جانب سے سمری پر دستخط نہ ہونے کی وجہ سے ان ججز کی مستقل تقرری کا عمل تاحال مکمل نہیں ہوسکا۔
مستقلی کا باضابطہ اعلامیہ جاری ہونے تک مذکورہ 4 ججز مستقل حیثیت میں عدالتی امور انجام نہیں دے سکتے، جس کے باعث عدالت میں فعال ججز کی تعداد 17 تک محدود ہوگئی ہے۔
عدالتی ذرائع کے مطابق موسم گرما کی تعطیلات کے باعث بھی تمام بنچز معمول کے مطابق کام نہیں کر رہے، جس سے زیرِ التوا مقدمات کا بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
دستیاب عدالتی اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 تک پشاور ہائیکورٹ میں 34,450 مقدمات فیصلوں کے منتظر تھے۔ اسی عرصے کے دوران عدالت میں 21,678 نئے مقدمات دائر ہوئے جبکہ 22,170 مقدمات نمٹائے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق عدالت نے نئے دائر ہونے والے مقدمات سے زیادہ کیسز نمٹائے، تاہم پہلے سے زیرِ التوا مقدمات کی بڑی تعداد اب بھی موجود ہے۔
قانونی معاملات سے وابستہ حلقوں کے مطابق ججز کی موجودہ تعداد اور مقدمات کے بڑھتے ہوئے حجم کے باعث سائلین کو اپنے کیسز کے فیصلوں کے لیے مزید انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 4 ججز کی مستقلی کا باضابطہ عمل مکمل ہونے کے بعد ان کی دوبارہ عدالتی ذمہ داریاں سنبھالنے سے مقدمات کی سماعت میں تیزی لانے اور عدالت پر بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔