حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
پی ٹی آئی کی ہائیکورٹ احتجاج کال ناکام، چند ارکان پہنچے تو اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آگئے Home / سیاست /

پی ٹی آئی کی ہائیکورٹ احتجاج کال ناکام، چند ارکان پہنچے تو اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آگئے

ایڈیٹر - 10/08/2026
پی ٹی آئی کی ہائیکورٹ احتجاج کال ناکام، چند ارکان پہنچے تو اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آگئے

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر ارکانِ اسمبلی کے احتجاج کی کال مؤثر ثابت نہ ہوسکی، مقررہ وقت پر بڑی تعداد میں پارلیمنٹیرینز کے نہ پہنچنے پر پارٹی کے اندر اختلافات اور ایک دوسرے پر الزامات سامنے آگئے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ شب ہونے والے اجلاس میں تمام پارلیمنٹیرینز کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ آج صبح 10 بجے اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچیں، تاہم مقررہ وقت پر صرف چند ارکان ہی عدالت کے باہر موجود تھے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچنے والوں میں علی محمد خان، سینیٹر مشعال خان یوسفزئی، سینیٹر فلک ناز چترالی، شفقت اعوان اور جنید اکبر شامل تھے۔ سلمان اکرم راجا بھی کچھ دیر کے لیے ہائیکورٹ کے باہر آئے، تاہم بعد ازاں وہاں سے روانہ ہوگئے۔

احتجاج کے پیش نظر ہائیکورٹ کے باہر پولیس کی اضافی نفری اور قیدی گاڑیاں بھی موجود تھیں۔

سلمان اکرم راجا کا پارٹی ارکان سے شکوہ

احتجاج میں ارکان کی کم تعداد میں شرکت پر سلمان اکرم راجا نے پارٹی ارکان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ارکان سے ہائیکورٹ پہنچنے کی بارہا درخواست کی تھی، تاہم بڑی تعداد میں ارکان وہاں نہیں آئے۔

انہوں نے احتجاج میں عدم شرکت کرنے والے ارکان کے نام سامنے لانے کا بھی عندیہ دیا۔

جنید اکبر نے ذمہ داری سلمان اکرم راجا پر ڈال دی

دوسری جانب جنید اکبر نے احتجاج کی ناکامی کا ذمہ دار سلمان اکرم راجا کو قرار دیتے ہوئے پارٹی کے طریقہ کار پر سوال اٹھا دیا۔

جنید اکبر کا کہنا تھا کہ رات 12 بجے اطلاع دے کر صبح 10 بجے تمام پارلیمنٹیرینز کو ہائیکورٹ پہنچنے کی ہدایت دینا مناسب طریقہ نہیں۔ ان کے مطابق ارکان اسمبلی کو اس انداز میں اچانک نہیں بلایا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ ارکان کا اس صورتحال میں قصور نہیں کیونکہ انہیں بروقت اطلاع ہی نہیں دی گئی۔ جنید اکبر نے پارٹی قیادت کو سیاسی اور تنظیمی معاملات بہتر انداز میں چلانے کا مشورہ بھی دیا۔

مشعال یوسفزئی نے بھی بروقت اطلاع پر زور دیا

سینیٹر مشعال یوسفزئی نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ ارکان کو رات گئے بتایا گیا کہ اگلے روز عمران خان کے کیس کی سماعت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اہم عدالتی معاملے میں پارلیمنٹیرینز کو کم از کم 24 گھنٹے پہلے اطلاع دی جانی چاہیے تھی تاکہ وہ بروقت ہائیکورٹ پہنچنے کے لیے اپنی مصروفیات ترتیب دے سکیں۔

احتجاج میں کم تعداد میں ارکان کی شرکت کے بعد پی ٹی آئی کے اندر رابطہ کاری، تنظیمی فیصلوں اور قیادت کے درمیان باہمی ہم آہنگی سے متعلق سوالات اٹھنے لگے ہیں۔