حسبان میڈیا(ویب ڈیسک): ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ تبدیلی کے خلاف گڈز ٹرانسپورٹرز کی احتجاجی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری ہے، جس کے باعث مختلف شہروں کے درمیان مال برداری کا نظام شدید متاثر ہونے لگا ہے۔
ہڑتال کے باعث ٹرانسپورٹ اڈوں سے مال بردار گاڑیوں کی روانگی رکی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ادویات، خوراک، ایل پی جی، آٹا اور دیگر ضروری اشیاء کی ترسیل میں مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں نے واضح کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے مطالبات تسلیم کیے جانے تک احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔ ٹرانسپورٹرز نے ہڑتال غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
ٹرانسپورٹر رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کے نرخ روزانہ تبدیل ہونے سے مال برداری کے شعبے میں کاروباری منصوبہ بندی مشکل ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے باعث ٹرانسپورٹرز کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہنے کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں اشیائے ضروریہ کی فراہمی مزید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز نے حکومت سے مطالبات پر فوری غور اور مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ مطالبات منظور ہونے تک ہڑتال ختم نہیں کی جائے گی، جس کے باعث طویل احتجاج کی صورت میں سپلائی کا نظام مزید دباؤ کا شکار ہوسکتا ہے۔